افغانستان نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مشرقی صوبے کنڑ میں مارٹر اور میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں ایک یونیورسٹی اور دیگر شہری علاقے متاثر ہوئے۔ افغان حکام کے مطابق ۲۷ اپریل ۲۰۲۶ کو اسعدآباد اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والی اس گولہ باری سے سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ ۷ افراد ہلاک اور ۸۵ زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں طلبہ، خواتین اور بچے بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے یونیورسٹی کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ پاکستانی مؤقف یہ ہے کہ یونیورسٹی پر حملے کی اطلاعات درست نہیں اور اگر کوئی کارروائی کی گئی تو وہ مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر عسکری اہداف کے خلاف تھی، نہ کہ شہری تنصیبات کے خلاف۔ یوں اس واقعے پر دونوں ممالک کے بیانات ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں۔
جس تعلیمی ادارے کا نام اس واقعے میں سامنے آیا ہے، وہ اسعدآباد میں واقع ایک سرکاری جامعہ ہے۔ اسی وجہ سے اس واقعے کی حساسیت بڑھ گئی ہے، کیونکہ معاملہ کسی دور دراز سرحدی چوکی کا نہیں بلکہ ایک معلوم شہری اور تعلیمی مقام کے متاثر ہونے کا ہے۔ اس نے اس واقعے کو محض سرحدی کشیدگی سے نکال کر ایک بڑے سفارتی اور انسانی مسئلے میں بدل دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی ہو رہی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق اپریل ۲۰۲۶ میں سفارتی رابطوں اور ثالثی کی بعض کوششوں کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ سرحدی تصادم میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم کنڑ میں تازہ الزام نے ان کوششوں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ افغانستان نے کنڑ میں سرحد پار حملوں کا الزام عائد کیا ہو۔ اس سے پہلے بھی اسعدآباد کے اطراف گولہ باری کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں شہری جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے سرگرم شدت پسند گروہوں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان، کے خطرے سے نمٹ رہا ہے، جبکہ افغان حکام ایسی پناہ گاہوں کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاک۔افغان تعلقات میں اصل مسئلہ صرف سرحدی سلامتی نہیں، بلکہ اعتماد کا شدید فقدان بھی ہے۔ جب کسی حملے میں ایک یونیورسٹی کا نام آ جائے تو معاملہ عسکری دائرے سے نکل کر تعلیم، شہری تحفظ اور ریاستی ساکھ تک پہنچ جاتا ہے۔ افغانستان کہتا ہے کہ جامعہ متاثر ہوئی، جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔ اس وقت یہی اختلاف اصل خبر ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو فوری حقائق اب بھی متنازع ہیں، مگر نتیجہ واضح ہے: مزید شہری نقصان، مزید بداعتمادی، اور دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ایک اور خطرناک موڑ۔ اگر دونوں جانب سے تصدیق، تحقیق اور تحمل کا کوئی قابلِ قبول طریقہ سامنے نہ آیا تو یہ واقعہ حالات کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے مزید سخت کر سکتا ہے۔
