امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عوامی حمایت کے محاذ پر ایک اور دھچکا لگا ہے۔ تازہ قومی پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی مجموعی منظوری اور خاص طور پر معیشت، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سے متعلق کارکردگی پر عوامی اعتماد نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ رائٹرز/اِپسوس کے 15 سے 20 اپریل 2026 کے سروے کے مطابق صرف ایک چوتھائی امریکیوں نے مہنگائی اور بڑھتی قیمتوں سے نمٹنے میں ٹرمپ کی کارکردگی کی حمایت کی، جب کہ اے پی-نورک کے مطابق ان کی مجموعی منظوری 33 فیصد تک آ گئی۔
یہ گراوٹ محض ایک عمومی سیاسی اتار چڑھاؤ نہیں لگتی بلکہ اس کا مرکز صاف طور پر معیشت ہے۔ اے پی-نورک کے اعداد و شمار کے مطابق ٹرمپ کی معاشی کارکردگی پر منظوری مارچ کے 38 فیصد سے گر کر اپریل میں 30 فیصد رہ گئی، جبکہ صرف 23 فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ لاگتِ زندگی کے مسئلے پر ان کے کام سے مطمئن ہیں۔ اسی سروے میں 72 فیصد افراد نے کہا کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے اور 73 فیصد نے قومی معیشت کو خراب قرار دیا۔
رائٹرز/اِپسوس کے نتائج بھی اسی تاثر کو مضبوط کرتے ہیں۔ اِپسوس کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی ٹرمپ کے لیے سب سے کمزور سیاسی نکتہ بن چکی ہے، کیونکہ قیمتوں سے متعلق ان کی منظوری ان کی مجموعی منظوری، امیگریشن، جرائم اور خارجہ پالیسی جیسے دیگر شعبوں سے بھی کم رہی۔ مارچ میں بھی رائٹرز/اِپسوس نے ان کی منظوری میں نمایاں کمزوری ریکارڈ کی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کمی وقتی نہیں بلکہ ایک تسلسل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
تازہ عوامی بے چینی صرف سروے نمبروں تک محدود نہیں۔ 28 اپریل کو شائع ہونے والی ایکسیوس کی رپورٹ، جو گیلپ کے نئے اعداد و شمار پر مبنی ہے، بتاتی ہے کہ 55 فیصد امریکی اب سمجھتے ہیں کہ ان کی مالی حالت مزید خراب ہو رہی ہے۔ گیلپ کے مطابق یہ شرح گزشتہ 25 برس میں بلند ترین سطح پر ہے۔ اسی رپورٹ میں لاگتِ زندگی کو سب سے بڑی معاشی تشویش قرار دیا گیا، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھایا ہے۔
گیلپ نے الگ سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اپریل میں امریکیوں کا معاشی اعتماد مزید نیچے گیا اور اکنامک کانفیڈنس انڈیکس 11 پوائنٹس گر کر منفی 38 پر آ گیا، جو حالیہ عرصے کی کمزور ترین ریڈنگز میں سے ایک ہے۔ یہ فرق خاص طور پر اہم ہے کیونکہ کچھ سرکاری معاشی اشاریے نسبتاً مستحکم دکھائی دیتے ہیں، لیکن عام ووٹر کی روزمرہ زندگی میں قیمتوں کا دباؤ اب بھی سیاسی حقیقت بنا ہوا ہے۔
امریکی میڈیا اور پولنگ اداروں کی حالیہ کوریج میں ایک اور عنصر بھی بار بار سامنے آیا ہے: ایران سے جاری کشیدگی اور اس کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ۔ اے پی-نورک نے صاف لکھا کہ گیس کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ٹرمپ کی معاشی مقبولیت کم ہوئی۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کو کمزور کیا کہ نئی انتظامیہ جلد قیمتوں پر قابو پا لے گی اور عوام کو فوری ریلیف ملے گا۔
سیاسی طور پر یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے اس لیے بھی زیادہ حساس ہے کہ عام ووٹر خارجہ پالیسی یا جماعتی نعروں سے زیادہ اپنی جیب کو دیکھتا ہے۔ جب پٹرول، خوراک اور دیگر بنیادی اخراجات بڑھتے ہیں تو منظوری کی شرح بھی تیزی سے متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ پولنگ یہی اشارہ دیتی ہے کہ ٹرمپ کی سب سے بڑی مشکل مخالفین کی تنقید نہیں بلکہ وہ معاشی بے اطمینانی ہے جو اب ووٹروں کے روزمرہ تجربے کا حصہ بن چکی ہے۔ 2026 کے وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے ساتھ یہ رجحان ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی ایک سنجیدہ انتباہ بن سکتا ہے۔
