نائجیریا میں حزبِ اختلاف نے ایک بار پھر بکھری ہوئی سیاست کو ایک مشترک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش تیز کر دی ہے، اور یہی پیش رفت اب ملک کے سیاسی منظرنامے کو بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ سابق نائب صدر اتیکو ابوبکر، سابق گورنر پیٹر اوبی، سابق سینیٹ صدر ڈیوڈ مارک اور سابق گورنر ناصر ایل رفائی سمیت کئی نمایاں رہنما افریکن ڈیموکریٹک کانگریس، یعنی اے ڈی سی، کے گرد جمع ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اس اتحاد کو 2027 کے صدارتی انتخاب سے پہلے صدر بولا تینوبو اور حکمران جماعت اے پی سی کے مقابل ایک سنجیدہ سیاسی صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس اتحاد کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ نائجیریا کی اپوزیشن اپنی اندرونی تقسیم کے باعث موثر چیلنج دینے میں ناکام رہی، جبکہ اے پی سی نے تنظیمی طاقت، سیاسی جوڑ توڑ اور مسلسل وفاداریاں تبدیل ہونے کے عمل سے اپنی گرفت مضبوط کی۔ ڈیوڈ مارک نے اس نئے اتحاد کو کثیر الجماعتی سیاست کے تحفظ سے جوڑا ہے اور خبردار کیا ہے کہ نائجیریا کو ایک جماعتی غلبے کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ دوسری جانب صدر تینوبو اس تاثر کو مسترد کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک جماعتی ریاست کے حامی نہیں۔
اس پیش رفت کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ چند بڑے نام ایک ساتھ آ گئے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نائجیریا کی اپوزیشن جماعتیں مسلسل اندرونی بحران، دھڑوں میں تقسیم اور سیاسی بے یقینی کا شکار رہی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مختلف جماعتوں سے رہنماؤں اور قانون سازوں کی وفاداریاں بدلنے کی خبریں سامنے آئی ہیں، اور مقامی میڈیا کے مطابق یہی صورت حال اے ڈی سی کو ایک ایسے سیاسی پلیٹ فارم میں بدل رہی ہے جس پر وہ رہنما جمع ہو رہے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پرانے اپوزیشن ڈھانچے اب مؤثر قومی چیلنج کھڑا کرنے کے قابل نہیں رہے۔
اس سارے منظر میں ایک دلچسپ سیاسی پہلو بھی ہے۔ اے پی سی خود بھی ماضی میں اتحادی سیاست کے ذریعے ابھری تھی اور 2015 میں اسی حکمتِ عملی نے پی ڈی پی کی طویل حکمرانی ختم کی تھی۔ اب اے ڈی سی کے گرد بننے والا یہ نیا اتحاد اسی تاریخ کو اپنے حق میں دہرانا چاہتا ہے۔ اپوزیشن کے کئی حلقے سمجھتے ہیں کہ اگر 2027 میں حکمران جماعت کو واقعی چیلنج دینا ہے تو منتشر انتخابی مہم نہیں، بلکہ ایک مربوط مشترک سیاسی بندوبست درکار ہوگا۔
تاہم، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد انتخابی دن تک متحد بھی رہ پائے گا؟ نائجیریا کی سیاست میں اتحاد بننا مشکل ضرور ہے، مگر اسے برقرار رکھنا اس سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوتا رہا ہے۔ اس نئے بندوبست میں شامل رہنماؤں کے اپنے اپنے علاقائی اثرات، سیاسی عزائم اور ماضی کی رقابتیں ہیں۔ اتیکو ابوبکر اور پیٹر اوبی دونوں 2023 کی سیاست کے بڑے چہرے رہے ہیں، اس لیے سب سے بڑا سوال اب یہی بنتا ہے کہ اگر یہ اتحاد آگے بڑھتا ہے تو اس کی قیادت کون کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کاغذ پر اتحاد اور عملی سیاست میں نظم و ضبط، دونوں ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔
ادھر صدر تینوبو کو اقتدار کا فائدہ حاصل ہے، اور اے پی سی اب بھی ملک گیر سطح پر ایک مضبوط جماعت سمجھی جاتی ہے۔ حکومت نے ایندھن سبسڈی کے خاتمے اور زرِ مبادلہ سے متعلق اصلاحات کو ضروری مگر مشکل فیصلے قرار دیا ہے۔ لیکن انہی فیصلوں کے بعد مہنگائی، زندگی کے بڑھتے اخراجات اور عوامی مشکلات نے سیاسی فضا کو مزید بے چین بھی کیا ہے۔ اپوزیشن اسی بے چینی میں اپنے لیے موقع دیکھ رہی ہے۔ مگر صرف حکومت پر تنقید کافی نہیں ہوگی۔ اگر یہ نیا اتحاد واقعی قومی سطح پر اثر ڈالنا چاہتا ہے تو اسے روزگار، مہنگائی، سلامتی اور حکمرانی سے متعلق واضح پالیسی مؤقف بھی دینا ہوگا۔
اس وقت نائجیریا میں اصل بحث یہی بنتی جا رہی ہے کہ آیا ملک ایک حقیقی جمہوری مقابلے کی طرف بڑھ رہا ہے یا پھر سیاست ایک ایسی کشمکش میں داخل ہو رہی ہے جہاں ایک مضبوط حکمران جماعت کے سامنے ایک جلدی میں ترتیب دیا گیا اپوزیشن بلاک کھڑا ہے۔ اے ڈی سی کے گرد جمع ہونے والے اس اتحاد نے کم از کم اتنا ضرور کر دیا ہے کہ اپوزیشن کو ایک دکھائی دینے والا مرکز مل گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ مرکز انتخابی سفر میں مضبوط رہتا ہے یا اندرونی اختلافات کے بوجھ تلے بکھر جاتا ہے۔
فی الحال ایک بات واضح ہے: نائجیریا کی سیاست میں ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ شاید یہ تبدیلی ابھی مکمل نہیں، شاید فیصلہ کن بھی نہیں، مگر اتنی ضرور ہے کہ 2027 کا انتخاب اب محض ایک معمول کی سیاسی مشق نہیں لگتا۔ یہ مقابلہ نائجیریا کی کثیر الجماعتی جمہوریت کی اصل طاقت کو بھی آزما سکتا ہے۔
