کراچی، 5 مئی — کراچی پولیس نے منگل کے روز عورت مارچ سے وابستہ سات کارکنان کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا۔ یہ کارکنان کراچی پریس کلب کے قریب ایک پریس کانفرنس کے لیے جمع ہوئے تھے، جہاں وہ اپنے آئندہ سالانہ مارچ کے لیے این او سی دینے کا مطالبہ کرنا چاہتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں معروف سماجی کارکن شیما کرمانی اور ٹرانس جینڈر حقوق کی کارکن شہزادی رائے بھی شامل تھیں۔ بعد ازاں ایک آرگنائزر نے تصدیق کی کہ تمام سات افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کراچی کے ساؤتھ زون پولیس کو زیر حراست کارکنان کی رہائی کی ہدایت دی۔ یوں ایک ایسا واقعہ، جو بظاہر صرف ایک پریس کانفرنس سے شروع ہوا تھا، چند ہی گھنٹوں میں انتظامی مداخلت کے بعد ختم ہو گیا۔
یہ معاملہ محض ایک مختصر حراست کا نہیں، بلکہ پاکستان میں خواتین کے حقوق اور عوامی اجتماع کے حق سے جڑی بڑی بحث کا حصہ بھی ہے۔ عورت مارچ کو مختلف شہروں میں اکثر انتظامی رکاوٹوں، اجازت نامے کے مسائل اور بعض اوقات پولیس کارروائی کا سامنا رہا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ پُرامن سیاسی و سماجی اجتماع کے لیے حدود اور اختیارات کا تعین آخر کس بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہ آخری نکتہ موجودہ واقعاتی ترتیب سے اخذ کیا گیا تجزیہ ہے۔
حالیہ واقعہ اسلام آباد میں مارچ 2026 کے دوران پیش آنے والی گرفتاریوں کے پس منظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں عورت مارچ سے وابستہ درجنوں کارکنان کو حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ اس پس منظر نے کراچی کے واقعے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
فی الحال بنیادی حقائق واضح ہیں: سات کارکنان کو حراست میں لیا گیا، وہ کراچی پریس کلب کے قریب پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے، اور سندھ حکومت کی مداخلت کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ مگر اس واقعے نے شہری آزادیوں، خواتین کے احتجاجی حق، اور ریاستی ردعمل سے متعلق بحث کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔
