جنگلات میں آگ لگنے کا موسم اب روایتی گرمیوں کے مہینوں تک محدود نہیں رہا۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق ’فائر ویدر‘ — یعنی شدید گرمی، ہوا میں نمی کی کمی اور تیز ہواؤں کا مہلک امتزاج — اب بہار کے اوائل میں شروع ہو کر خزاں کے آخر تک جاری رہتا ہے۔
یہ تبدیلی محض درجہ حرارت میں اضافے کا نام نہیں۔ طویل ہیٹ ویوز سے جھلسی ہوئی نباتات بارود کی طرح کام کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے موسمیاتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شمالی نصف کرہ کے بیشتر حصوں میں آگ لگنے کا خطرہ 1980 کی دہائی کے مقابلے میں تقریباً دو ہفتے زیادہ طویل ہو چکا ہے۔
موسمیاتی محقق ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "ہم کیلنڈر میں ایک بنیادی تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ نمی کے وہ وقفے جو آگ کو بھڑکنے سے روکتے تھے، اب سکڑ رہے ہیں۔ زمین کا خطہ ہماری پرانی پیش گوئیوں سے کہیں پہلے آگ کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔”
اس طوالت کا اثر براہِ راست ہے۔ فائر فائٹنگ ایجنسیز، جو پہلے بہار کے پرسکون دنوں میں کنٹرولڈ برننگ (محفوظ طریقے سے آگ لگانا) اور آلات کی دیکھ بھال کر لیتی تھیں، اب سال بھر ہائی الرٹ پر رہنے پر مجبور ہیں۔ بجٹ کے وہ منصوبے جو موسمی بحرانوں کے لیے بنائے گئے تھے، اب سال بھر جاری رہنے والی اس ہنگامی صورتحال کے سامنے ناکام ہو رہے ہیں۔
انشورنس کمپنیاں بھی اس بدلتی حقیقت کے پیشِ نظر اپنے رسک پورٹ فولیو پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔ ’آف سیزن‘ کے خاتمے کے بعد، ان علاقوں میں بھی پریمیم کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا ہے جنہیں پہلے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ ان طویل سیزنز کی معاشی قیمت اب ان حادثات سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے جو کبھی خبروں کی زینت بنتے تھے۔
موسمیاتی ماڈلز بتاتے ہیں کہ یہ رجحان مزید تیز ہوگا۔ جیسے جیسے گرم اور خشک ہواؤں کا باعث بننے والے فضائی دباؤ کے پیٹرنز جمود کا شکار ہوں گے، شدید آگ کے موسم کا دورانیہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
جنگلات کے قریب بسنے والی آبادیوں کے لیے، ’فائر سیزن‘ اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ خطرہ اب کوئی موسمی مسئلہ نہیں جسے وقتی طور پر سنبھالا جا سکے؛ یہ جدید تقویم کا ایک مستقل اور خطرناک حصہ بن چکا ہے۔
