فیفا نے ایرانی فٹ بال فیڈریشن (FFIRI) کے اعلیٰ حکام کو زیورخ میں اپنے ہیڈ کوارٹر طلب کر لیا ہے۔ یہ غیر معمولی اقدام عالمی فٹ بال میں ایران کی شرکت اور اس سے جڑے تادیبی معاملات پر براہِ راست بات چیت کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے فیفا کی ایتھکس کمیٹی اور ایرانی اسپورٹس حکام کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اس ملاقات کا مرکزی ایجنڈا ایران میں خواتین کے اسٹیڈیم میں داخلے پر پابندیاں اور فٹ بال فیڈریشن کے معاملات میں حکومتی مداخلت ہے۔ فیفا کے قوانین کے مطابق رکن ممالک کی فیڈریشنز کا کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہونا لازمی ہے، جس کی خلاف ورزی پر ایران کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔
فیفا کی قیادت اب تحریری یقین دہانیوں پر اکتفا کرنے کو تیار نہیں۔ زیورخ میں ہونے والی یہ بالمشافہ بات چیت دراصل ان اصلاحات کے لیے ایک حتمی ڈیڈ لائن ہے جو اب تک محض کاغذی کارروائی تک محدود رہی ہیں۔
تہران کے لیے اس ملاقات کے نتائج انتہائی اہم ہیں۔ اگر مذاکرات کسی ٹھوس لائحہ عمل پر منتج نہ ہوئے تو ایرانی فیڈریشن کو معطلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ایران نہ صرف 2026 ورلڈ کپ کوالیفائرز سے باہر ہو جائے گا بلکہ اس کی قومی ٹیمیں فیفا کے زیرِ اہتمام کسی بھی عالمی ایونٹ میں حصہ لینے کی اہل نہیں رہیں گی۔
فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "اب سفارتی خط و کتابت کا وقت گزر چکا ہے۔ مقصد صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کا حصول ہے۔”
ایرانی فٹ بال حلقوں کے لیے یہ دباؤ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ کھلاڑی اور شائقین برسوں سے ایسے ماحول میں کھیل رہے ہیں جہاں اسٹیڈیم شہری حقوق کی جنگ کا میدان بنے ہوئے ہیں۔ ماضی میں ایرانی حکام خواتین کے داخلے پر پابندی کے لیے ‘انفراسٹرکچر کی کمی’ کا عذر پیش کرتے رہے ہیں، تاہم فیفا کے تکنیکی مبصرین اپنی حالیہ رپورٹس میں اس دلیل کو مسترد کر چکے ہیں۔
زیورخ میں ہونے والی یہ ملاقات صرف اسٹیڈیم تک رسائی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک آزمائش ہے کہ آیا عالمی کھیلوں کا ادارہ کسی حکومتی کنٹرول والی فیڈریشن کو اپنے چارٹر کے مطابق چلانے پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو سوال ایرانی فیڈریشن پر نہیں، بلکہ خود فیفا کی ساکھ پر اٹھے گا۔
