بڑھتی ہوئی اسموگ، درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی دباؤ کے پیش نظر ماہرین اور پالیسی سازوں نے پاکستان کے معاشی اور ماحولیاتی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے صاف، سستی اور پائیدار توانائی کے ذرائع کی طرف فوری منتقلی پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق درآمد شدہ فوسل فیولز اور مہنگے روایتی توانائی نظام پر انحصار صارفین، صنعتوں اور قومی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
توانائی کی منتقلی اور کلائمیٹ ریزیلینس پر منعقدہ سیمینار میں ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں شمسی، ہوا اور ہائیڈرو پاور سمیت قابلِ تجدید توانائی کے بے پناہ وسائل موجود ہیں جن سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔
شرکاء نے کہا کہ موجودہ توانائی بحران طویل المدتی پالیسیوں کی کمی اور منصوبہ بندی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ مہنگی بجلی اور ایندھن نے صنعتی پیداوار، برآمدات اور تجارتی توازن کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں اسموگ، گلیشیئرز کے پگھلنے، سیلاب اور غیر متوقع بارشوں جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے “جسٹ ٹرانزیشن” کے تصور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی منتقلی کے دوران کمزور طبقات کے تحفظ اور شمولیتی پالیسی سازی کو یقینی بنایا جائے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے پاکستان کے لیے صاف توانائی ایک معاشی طور پر بھی بہتر آپشن بن چکی ہے۔
آخر میں ماہرین نے کہا کہ پاکستان کو کم کاربن ترقی کے ماڈل، مؤثر پالیسی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور ادارہ جاتی بہتری کے ذریعے توانائی کے شعبے میں فوری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ معاشی استحکام اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
