انٹارکٹیکا: دس افراد، آٹھ ہفتے اور تقریباً 3 ہزار فٹ موٹی برف۔ سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے انٹارکٹیکا کے تھویٹس گلیشیئر میں ایک انتہائی مشکل مہم کے دوران گرم پانی کی مدد سے گہرا سوراخ کیا تاکہ گلیشیئر کے نیچے موجود سمندری پانی کا براہِ راست جائزہ لیا جا سکے۔
یہ مہم برٹش انٹارکٹک سروے اور جنوبی کوریا کے قطبی تحقیقی پروگرام سے وابستہ ماہرین کی شراکت سے کی گئی۔ مقصد یہ تھا کہ تقریباً ایک ہزار میٹر موٹی برف کو کاٹ کر آلات سمندر تک پہنچائے جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ گرم سمندری دھارائیں گلیشیئر کو نیچے سے کس رفتار سے پگھلا رہی ہیں۔
تھویٹس گلیشیئر کو اکثر “ڈومز ڈے گلیشیئر” کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کا تیزی سے پگھلنا عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں اضافے کے خدشات سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے چوڑا گلیشیئر ہے، جس کی چوڑائی تقریباً 120 کلومیٹر، یعنی 80 میل، بتائی جاتی ہے۔
مہم آسان نہیں تھی۔ پی بی ایس نیوز آور کے مطابق برف پر موجود 10 رکنی ٹیم نے گرم پانی سے ڈرلنگ کے نظام کو چلانے کے لیے تقریباً 20 ٹن برف جمع کی۔ پھر اسی برف کو پگھلا کر گرم پانی بنایا گیا، جس سے گلیشیئر کے اندر ایک تنگ سوراخ کیا گیا۔ ایسے علاقے میں کام کرنا جہاں موسم کسی بھی لمحے بدل سکتا ہے، سادہ لفظوں میں، بہت سخت امتحان تھا۔
ٹیم بالآخر برف کے نیچے سمندر تک پہنچ گئی۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق آلات نے گلیشیئر کے نیچے نسبتاً گرم اور تیز بہاؤ والے پانی کی موجودگی ریکارڈ کی، جو برف کو نیچے سے پگھلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سائنس دانوں کے لیے یہ ڈیٹا اس لیے اہم ہے کہ سیٹلائٹ اوپر سے تو تبدیلی دکھا دیتے ہیں، مگر برف کے نیچے ہونے والی اصل سرگرمی کو سمجھنے کے لیے براہِ راست پیمائش ضروری ہوتی ہے۔
تاہم مہم مکمل طور پر منصوبے کے مطابق ختم نہیں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 3,300 فٹ گہرا اور 11 انچ چوڑا سوراخ دوبارہ جمنا شروع ہو گیا، جس کے باعث طویل مدتی نگرانی کے آلات محفوظ طریقے سے نصب نہ کیے جا سکے۔ ٹیم کو کچھ سامان برف میں چھوڑ کر واپس جانا پڑا۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ حاصل ہونے والا ابتدائی ڈیٹا انتہائی قیمتی ہے۔
تھویٹس گلیشیئر اس وقت عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں اضافے میں تقریباً چار فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس کا بڑا حصہ غیر مستحکم ہوا تو آنے والی صدیوں میں سمندر کی سطح میں تقریباً 65 سینٹی میٹر اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ مغربی انٹارکٹیکا کی دیگر برفیلی تہوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سائنس دان بار بار اس خطرناک اور دور دراز مقام تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تھویٹس کا سب سے نازک حصہ وہ ہے جہاں گلیشیئر سمندر کی تہہ سے اٹھ کر تیرتی ہوئی برف میں بدلتا ہے۔ اگر گرم پانی اس حصے کے نیچے داخل ہو جائے تو پگھلاؤ تیز ہو سکتا ہے۔
اس مہم نے ایک بات واضح کر دی ہے: انٹارکٹیکا کی برف خاموش ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے نیچے بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اور یہ تبدیلی صرف قطب جنوبی تک محدود نہیں رہے گی؛ اس کے اثرات دنیا بھر کے ساحلی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں۔
