حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ فائزر (Pfizer) کی کووڈ-19 ویکسین ہنٹا وائرس کا سبب بنتی ہے۔ تاہم ماہرین اور فیکٹ چیکنگ اداروں نے اس دعوے کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض صارفین نے فائزر کی ایک دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہنٹا وائرس ویکسین کے ممکنہ مضر اثرات میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ دستاویز دراصل اُن طبی مسائل کی فہرست تھی جن کی ویکسینیشن کے بعد نگرانی کی جاتی ہے، نہ کہ ایسے امراض کی جنہیں ویکسین کا ثابت شدہ ضمنی اثر قرار دیا گیا ہو۔
جرمنی کی ماربرگ یونیورسٹی کے ماہرِ وائرولوجی اسٹیفن بیکر کے مطابق "سائنسی اور وائرولوجیکل نقطۂ نظر سے ہنٹا وائرس انفیکشن کووڈ-19 ویکسین کی وجہ سے پیدا نہیں ہو سکتا۔”
فیکٹ چیکنگ اداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ہنٹا وائرس ایک الگ وائرل بیماری ہے جو عموماً متاثرہ چوہوں یا ان کی آلائشوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اب تک ایسا کوئی سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ فائزر کی کووڈ-19 ویکسین ہنٹا وائرس کا باعث بنتی ہے۔
ماہرین عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ صحت سے متعلق معلومات صرف مستند طبی اداروں اور قابلِ اعتماد ذرائع سے حاصل کریں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے غیر مصدقہ دعوؤں پر یقین کرنے سے گریز کریں۔
