ماہرین کی جانب سے سامنے آنے والی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ تقریباً 8,500 قدم چلنا وزن میں کمی کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ عمل حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے نتائج نے طویل عرصے سے مقبول 10,000 قدم روزانہ کے ہدف پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ تحقیق یورپی کانگریس برائے موٹاپا (European Congress on Obesity 2026) میں پیش کی گئی، جس میں 18 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 14 مطالعات کے اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا جن میں تقریباً 3,758 بالغ افراد شامل تھے۔ محققین نے وزن میں کمی اور بعد ازاں وزن برقرار رکھنے کے دوران روزانہ چلنے والے قدموں اور جسمانی وزن کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔
تحقیق کے مطابق وہ افراد جنہوں نے غذا میں تبدیلیوں کے ساتھ اپنی روزانہ جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرتے ہوئے اوسطاً 8,500 قدم روزانہ مکمل کیے، انہوں نے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران اپنے جسمانی وزن میں اوسطاً 4.4 فیصد کمی حاصل کی۔ مزید اہم بات یہ سامنے آئی کہ یہ افراد بعد کے مہینوں میں بھی اپنا زیادہ تر کم کیا گیا وزن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپے کے علاج میں سب سے بڑا چیلنج وزن کم کرنا نہیں بلکہ وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روکنا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ تقریباً 80 فیصد افراد وزن کم کرنے کے چند سال بعد دوبارہ وزن بڑھنے کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے باعث پائیدار طرزِ زندگی اپنانا انتہائی ضروری ہے۔
مطالعے کے سربراہ پروفیسر مروان الغوش کے مطابق روزانہ تقریباً 8,500 قدم چلنا ایک سادہ، کم خرچ اور قابلِ رسائی طریقہ ہے جو وزن میں کمی کے بعد اسے برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف قدموں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ متوازن غذا، مناسب نیند اور مسلسل جسمانی سرگرمی بھی ضروری عناصر ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ زیادہ قدم چلنے کا تعلق وزن کم کرنے کے ابتدائی مرحلے میں اضافی وزن گھٹانے سے اتنا مضبوط نہیں تھا، تاہم وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روکنے میں اس کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق میں 8,500 قدم روزانہ کو ایک حقیقت پسندانہ اور پائیدار ہدف قرار دیا گیا ہے جسے زیادہ تر افراد اپنی روزمرہ زندگی میں آسانی سے شامل کر سکتے ہیں۔
صحت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ دفتر میں طویل وقت بیٹھنے، کم جسمانی سرگرمی اور غیر متوازن خوراک کے موجودہ رجحان کے پیشِ نظر روزانہ چہل قدمی کو معمول بنانا نہ صرف وزن کو کنٹرول کرنے بلکہ دل کی صحت، بلڈ شوگر اور مجموعی فٹنس کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
