پاکستانی فری لانسرز نے رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں 959 ملین ڈالر کی برآمدی آمدنی حاصل کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہے۔ مقامی کاروباری رپورٹس کے مطابق یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈیٹا سے لیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران فری لانسرز کی یہ آمدنی کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کے تحت ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ مالی سال کے اسی 10 ماہ میں یہ رقم 642 ملین ڈالر تھی۔ اس طرح رواں سال پاکستان نے فری لانسنگ کے شعبے سے تقریباً 317 ملین ڈالر اضافی کمائے۔
یہ اضافہ معمولی نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو زرمبادلہ، برآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کا سامنا رہتا ہے، فری لانسنگ سے آنے والی آمدنی اب ایک سنجیدہ معاشی ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان فری لانس ایکسپورٹس میں ایک ارب ڈالر کے سالانہ ہدف کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تیزی کی بڑی وجوہات میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کا آن لائن کام کی طرف آنا، ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت، نجی اور سرکاری سطح پر آئی ٹی پروگرامز، اور عالمی مارکیٹ میں ریموٹ سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب شامل ہیں۔ پاکستانی فری لانسرز عموماً Upwork، Fiverr اور سوشل میڈیا بیسڈ مارکیٹ پلیسز کے ذریعے بیرون ملک کلائنٹس سے کام حاصل کرتے ہیں۔
فری لانسنگ میں زیادہ تر کام سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ویب ڈیزائن، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آئی ٹی سپورٹ، ای کامرس سروسز، کانٹینٹ رائٹنگ اور اب تیزی سے بڑھتے ہوئے AI سے متعلق کاموں پر مشتمل ہے۔ دنیا بھر میں کمپنیاں فل ٹائم ملازمین کے بجائے مخصوص پروجیکٹس کے لیے ریموٹ ٹیلنٹ کو ترجیح دے رہی ہیں، اور پاکستانی نوجوان اس رجحان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ رجحان اس لیے بھی اہم ہے کہ روایتی برآمدات، خاص طور پر ٹیکسٹائل، پر ملک کا انحصار بہت زیادہ ہے۔ فری لانسنگ ایک نسبتاً کم لاگت، تیزی سے بڑھنے والا اور نوجوانوں پر مبنی شعبہ ہے، جو بغیر بڑے کارخانوں یا بھاری سرمایہ کاری کے زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ سیدھی بات ہے، ایک لیپ ٹاپ، اچھی اسکل اور قابل اعتماد انٹرنیٹ اب کئی نوجوانوں کے لیے عالمی مارکیٹ تک رسائی کا راستہ بن چکے ہیں۔
تاہم، اس شعبے کے مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ فری لانسرز کو اب بھی بین الاقوامی ادائیگیوں، بینکنگ رکاوٹوں، پلیٹ فارم فیس، انٹرنیٹ کی غیر یقینی صورتحال، ٹیکس پالیسی کی پیچیدگیوں اور بعض اوقات کلائنٹس سے ادائیگی میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان میں ابھی تک کئی عالمی پیمنٹ گیٹ ویز کی مکمل دستیابی نہ ہونا بھی فری لانسرز کے لیے ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت فری لانسنگ کو باقاعدہ برآمدی شعبے کے طور پر سنجیدگی سے لے، تو آمدنی میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ اس کے لیے آسان ڈیجیٹل پیمنٹس، بہتر بینکنگ سپورٹ، مستحکم انٹرنیٹ، واضح ٹیکس پالیسی، اور AI، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور پروڈکٹ ڈیزائن جیسی مہنگی اسکلز میں تربیت ضروری ہو گی۔
فی الحال، تازہ اعداد و شمار پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ ہیں۔ فری لانسرز نے مالی سال ختم ہونے سے پہلے ہی تقریباً ایک ارب ڈالر کی حد کو چھو لیا ہے۔ گھروں، چھوٹے دفاتر اور کو ورکنگ اسپیسز سے کام کرنے والے نوجوانوں کے لیے یہ واقعی بڑی کامیابی ہے — اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے بھی۔
