ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ کریمین-کانگو ہیمرجک فیور (CCHF)، جسے عام طور پر "ناک سے خون بہنے والا بخار” بھی کہا جاتا ہے، موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث نئے علاقوں اور ممالک تک پھیلنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان بیماری کے عالمی پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
سی سی ایچ ایف ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر متاثرہ ٹِکس (Ticks) کے کاٹنے یا متاثرہ جانوروں کے خون اور جسمانی رطوبتوں کے رابطے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری بخار، شدید کمزوری، جسم درد اور بعض شدید کیسز میں اندرونی یا بیرونی خون بہنے کا سبب بن سکتی ہے، جس کی وجہ سے اسے "ہیمرجک فیور” کہا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ اور موسموں کے پیٹرن میں تبدیلی ٹِکس کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے۔ اس کے باعث وہ علاقوں میں بھی پھیل رہے ہیں جہاں ماضی میں ان کی موجودگی محدود یا نہ ہونے کے برابر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں میں بیماری کے خطرات پر بڑھتی ہوئی تشویش پائی جا رہی ہے۔
صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق مویشیوں کی نقل و حمل، جنگلی حیات کے بدلتے ہوئے مسکن اور بین الاقوامی تجارت بھی بیماری کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ تمام متاثرہ افراد میں شدید علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن بعض مریضوں میں بیماری جان لیوا شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے باعث بروقت تشخیص اور علاج انتہائی اہم ہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ مویشی پالنے والے افراد، ذبح خانوں کے کارکنان، ویٹرنری عملہ اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جن میں حفاظتی لباس کا استعمال، ٹِکس سے بچاؤ اور متاثرہ جانوروں کے ساتھ کام کرتے وقت مناسب احتیاط شامل ہے۔
صحت حکام کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں متعدی بیماریوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہے تاکہ سی سی ایچ ایف سمیت دیگر ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
