آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کی دوڑ اب ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں سابق عالمی چیمپئنز ویسٹ انڈیز اور سری لنکا اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کوالیفائنگ مرحلے کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور دونوں ٹیموں کے لیے اب کسی بھی غلطی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
صورتحال سیدھی ہے: یا تو براہ راست کوالیفائی کریں یا پھر کوالیفائر ٹورنامنٹ کے مشکل اور غیر یقینی راستے کا انتخاب کریں۔ کرکٹ کی دنیا پر راج کرنے والی ان دو ٹیموں کے لیے براہ راست کوالیفکیشن سے محروم ہونا نہ صرف ایک انتظامی ناکامی ہے، بلکہ یہ ان کی عالمی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔
ویسٹ انڈیز کرکٹ کا حال اب بھی غیر مستحکم ہے۔ 2023 کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کر پانے کا صدمہ ابھی تازہ ہے، اور کیریبیئن ٹیم گزشتہ دو برسوں سے ایک ایسی سکواڈ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں تسلسل اور گہرائی دونوں کا فقدان ہے۔ ان کی حالیہ کارکردگی میں کبھی کبھی دم نظر آتا ہے، لیکن پھر وہی پرانی غلطیاں اور کمزور ٹیموں کے خلاف غیر متوقع شکست ان کی پیش رفت کو روک دیتی ہے۔
سری لنکا کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ بورڈ کے اندرونی خلفشار اور کپتانوں کی بار بار تبدیلی نے ٹیم کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ سیریز میں شکستوں نے انہیں پوائنٹس ٹیبل پر محفوظ زون سے باہر دھکیل دیا ہے، جس کے بعد اب وہ نیٹ رن ریٹ اور دیگر ٹیموں کے نتائج پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
ریاضی کا حساب بہت بے رحم ہے۔ دونوں ٹیمیں نیٹ رن ریٹ کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں، گویا یہ ان کے لیے آخری سہارا ہو۔ ایک میچ کی بارش یا بڑی شکست انہیں کوالیفائر کے اس مرحلے میں دھکیل سکتی ہے جہاں سکاٹ لینڈ یا زمبابوے جیسی ابھرتی ہوئی ٹیموں کے خلاف کھیلنا کسی بھی بڑی ٹیم کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔
کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹیموں میں جاری "جنریشن گیپ” اس بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں جنہوں نے گزشتہ دہائی میں ان کی کامیابیوں کی بنیاد رکھی تھی، مگر نئے کھلاڑی ابھی تک دباؤ میں پرفارم کرنے کی صلاحیت ثابت نہیں کر سکے۔
سری لنکا کے کیمپ سے وابستہ ایک ذرائع نے حال ہی میں صحافیوں کو بتایا: "ہم ہر گھنٹے پوائنٹس ٹیبل نہیں دیکھ رہے، لیکن ہمیں حقیقت کا اندازہ ہے۔ اگر ہم جیتیں گے تو ہی آگے بڑھیں گے، ورنہ ہمیں دوبارہ کوالیفائر کی کھائی میں اترنا پڑے گا۔”
آنے والے چند ماہ یہ فیصلہ کریں گے کہ کرکٹ کی یہ دو بڑی ٹیمیں کوالیفائنگ کے طویل اور تھکا دینے والے عمل سے بچ پاتی ہیں یا نہیں۔ اگر انہوں نے اپنی فارم بحال نہ کی، تو 2027 کا ورلڈ کپ کرکٹ کی ان دو تاریخ ساز ٹیموں کے بغیر شروع ہو سکتا ہے۔
