سابق آسٹریلوی فاسٹ باؤلر شان ٹیٹ نے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلنگ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ 2022 میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ساتھ وابستہ ہونے والے ٹیٹ نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلنگ اٹیک اپنی کارکردگی میں تسلسل لانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ٹیم کے پیسرز کی ڈسپلن اور لائن لینتھ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، جس کا دباؤ کوچنگ اسٹاف پر بھی نمایاں تھا۔ ٹیٹ کا جانا ڈریسنگ روم میں ایک خلا پیدا کر گیا ہے، خاص طور پر ان نوجوان باؤلرز کے لیے جو ان کی رہنمائی میں اپنی رفتار پر کام کر رہے تھے۔
ٹیٹ کا استعفیٰ محض عملے کی تبدیلی نہیں، بلکہ بی سی بی کی حکمت عملی میں ایک اور موڑ ہے۔ بورڈ طویل عرصے سے اس کوشش میں ہے کہ ٹیم کو صرف اسپن پر انحصار کرنے والی سائیڈ سے نکال کر ایک متوازن پیس اٹیک فراہم کرے۔ ٹیٹ نے اپنی کوچنگ میں جارحانہ اور تیز رفتار باؤلنگ پر توجہ مرکوز کی، لیکن گراؤنڈ پر اس کے نتائج توقعات کے مطابق نہیں مل سکے۔
ذرائع کے مطابق بی سی بی نے نئے کوچ کی تلاش شروع کر دی ہے۔ بورڈ اب ایسے امیدوار کی تلاش میں ہے جو تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ جدید کرکٹ کے تقاضوں، خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں حکمت عملی کے مطابق باؤلنگ کروانے کا تجربہ رکھتا ہو۔ یہ وہ چیلنج ہے جس کے سامنے ٹیٹ کا دور کافی حد تک ناکام رہا۔
بنگلہ دیشی کرکٹ میں باؤلنگ کوچز کا تیزی سے تبدیل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں بی سی بی کئی ہائی پروفائل کوچز کو تبدیل کر چکا ہے، لیکن کوئی بھی طویل عرصے تک ٹیم کے ساتھ ٹھہر نہ سکا۔ کھلاڑیوں کے لیے کسی بڑے ٹورنامنٹ سے چند ماہ قبل کوچنگ اسٹاف کی تبدیلی ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا باعث بنی ہے۔
بورڈ کی جانب سے آئندہ دورے کے لیے عبوری کوچ کا اعلان جلد متوقع ہے، جس کے لیے ہائی پرفارمنس یونٹ سے کسی نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ فی الحال، بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلرز کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نئے کوچ کے آنے تک خود ہی حالات کو سنبھالنا ہوگا۔
