لندن — عالمی منڈیوں میں مندی کے رجحان اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمتِ عملی کے برعکس، برطانوی اسٹاک مارکیٹ کا فلیگ شپ ‘ایف ٹی ایس ای 100’ (FTSE 100) انڈیکس جمعہ کے روز معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ مارکیٹ کو یہ حوصلہ ان نئے اعداد و شمار سے ملا جن کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ توقعات سے کم شدید ہو سکتا ہے۔
کاروبار کے اختتام پر بڑی کمپنیوں پر مشتمل ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جبکہ درمیانی کمپنیوں کا ‘ایف ٹی ایس ای 250’ انڈیکس 1 فیصد گر گیا۔ انفرادی کارکردگی کے باوجود، دونوں انڈیکس مجموعی طور پر ہفتہ وار خسارے میں رہے، اور مڈ کیپ انڈیکس کی گزشتہ دو ہفتوں سے جاری تیزی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔
بینک آف انگلینڈ کی جانب سے 2,000 سے زائد برطانوی کمپنیوں پر کیے گئے ایک حالیہ سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کاروباری اداروں کے مطابق اگلے سال کے دوران قیمتوں میں اضافے کی رفتار اپریل کے مقابلے میں دھیمی رہے گی، کیونکہ ایران جنگ کے باعث شروع میں لگنے والا توانائی کی قیمتوں کا جھٹکا اب بتدریج کم ہو رہا ہے۔ سروے کے مطابق، 57 فیصد کمپنیوں نے توانائی کے بحران کے جواب میں قیمتیں بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا، جو کہ اپریل کے مقابلے میں 7 فیصد کم ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ برطانوی لیبر مارکیٹ (روزگار کی منڈی) میں سستی کے باعث مہنگائی کا وہ دوسرا طوفان نہیں آئے گا جس کا بینک آف انگلینڈ کو ڈر تھا، اور ممکن ہے کہ برطانوی مرکزی بینک دیگر عالمی بینکوں کے برعکس شرحِ سود میں مزید اضافہ نہ کرے۔
عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے اس تنازع کا جلد حل ہونا اور تیل کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کا دوبارہ کھلنا انتہائی ضروری ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کے لیے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کو پہلی شرط قرار دیا ہے، اور یہ جنگ اب اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔
دوسری جانب، ہاؤسنگ فنانس فراہم کرنے والے ادارے ‘ہیلی فیکس’ کے اعداد و شمار کے مطابق، مئی میں برطانیہ میں گھروں کی قیمتوں میں غیر متوقع طور پر 0.1 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ قرضوں کی بلند لاگت اور ایران جنگ کی انشینت صورتحال رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ تاجروں کو توقع ہے کہ بینک آف انگلینڈ اس ماہ سود کی شرح کو 3.75 فیصد پر برقرار رکھے گا، تاہم سال کے آخر تک اس میں ایک یا دو بار معمولی اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
سرمایہ کاروں کی نظریں برطانوی سیاست پر بھی جمی ہوئی ہیں، جہاں لیبر پارٹی کے میئر اینڈی برہم نے اشارہ دیا ہے کہ اگر وہ اس ماہ کے آخر میں ہونے والے مقامی انتخابات جیت جاتے ہیں، تو وہ وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے خلاف پارٹی قیادت کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔
کاروباری شعبوں کی بات کی جائے تو فارماسیوٹیکل (ادویات) کے شیئرز میں 2.1 فیصد اور پرسنل کیئر اسٹاکس میں 2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قیمتی دھاتوں کی مائننگ کرنے والی کمپنیوں کے شیئرز 6 فیصد گر گئے۔ انفرادی کمپنیوں میں، برطانوی بک میکر کمپنی ‘ایوووک’ (Evoke) کے شیئرز میں 15 فیصد اضافہ دیکھا گیا جب یونانی گیمنگ فرم ‘انٹرالاٹ’ نے اسے 243 ملین پاؤنڈز میں خریدنے کا معاہدہ کیا۔ اس کے علاوہ سنگل بورڈ کمپیوٹر بنانے والی کمپنی ‘راسپبیری پائی’ (Raspberry Pi) کے شیئرز سالانہ منافع کے ہدف میں اضافے کے بعد 27 فیصد بڑھ کر اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
