شہری کونسل کے نئے ‘ہیلتھ اسپیس’ اقدام پر کونسلروں کے درمیان ٹھن گئی ہے، جس کا مرکزی نقطہ درختوں کی کٹائی کے عوض ان کی مالیاتی قدر کا تعین ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے دوران گرین کور کو برقرار رکھنے کے لیے تیار کردہ اس پالیسی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا موجودہ فارمولا درختوں کے ماحولیاتی نقصان کا درست تخمینہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ڈویلپرز کے لیے ایک نیا فارمولا متعارف کرایا گیا ہے، جس میں درختوں کی کٹائی کے بدلے شہر کے فنڈ میں رقم جمع کروانے یا نئے پودے لگانے کی شرط رکھی گئی ہے۔ ناقدین اس حساب کتاب کو ناقص قرار دیتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایک سو سال پرانے درخت کی قیمت اور پانچ فٹ کے نئے پودے کی قیمت میں موازنہ کرنا حقیقت کے منافی ہے۔
منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران کونسلر سارہ جینکنز نے کہا، "آپ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کو محض ایک چھوٹی سی ٹہنی سے بدل نہیں سکتے۔” انہوں نے مطالبہ کیا کہ درختوں کی قیمت کا تعین کرتے وقت کاربن جذب کرنے کی صلاحیت، برساتی پانی کے نکاس میں مدد اور گلیوں کے درجہ حرارت کو کم رکھنے جیسے عوامل کو بھی فارمولے کا حصہ بنایا جائے۔
محکمہ منصوبہ بندی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فارمولا ترقیاتی منصوبوں کی افادیت کو برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر درختوں کی کٹائی کی قیمت بہت زیادہ بڑھا دی گئی تو ڈویلپرز شہر کا رخ کرنا چھوڑ دیں گے، جس سے رہائشی منصوبوں کی رفتار متاثر ہوگی۔ محکمہ کے لیڈ پلانر مارک سٹرلنگ نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کا مقصد "توازن قائم کرنا ہے، نہ کہ تعمیرات پر مکمل پابندی لگانا۔”
یہ تنازع شہری حکمرانی میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ شہری گرمی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیشِ نظر مقامی حکومتوں پر دباؤ ہے کہ وہ درختوں کو محض سجاوٹ کے بجائے شہری انفراسٹرکچر کا ایک اہم حصہ سمجھیں۔
ماحولیاتی ماہرین کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ موجودہ فارمولا ‘متبادل وقت’ کے عنصر کو نظر انداز کر رہا ہے۔ ایک نئے پودے کو پرانے درخت کے برابر ماحولیاتی فوائد پہنچانے میں دہائیاں لگتی ہیں۔ موجودہ تجویز کے تحت، شہر کا مجموعی گرین کور عددی لحاظ سے تو مستحکم رہ سکتا ہے، لیکن ماحولیاتی معیار گراوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔
کونسل سے اگلے ہفتے نظرثانی شدہ میٹرکس پر ووٹنگ متوقع ہے۔ اگر یہ منظور ہو جاتا ہے تو شہر ایک ایسے درجہ بندی کے نظام کی طرف جائے گا جہاں قدیم اور مقامی درختوں کی کٹائی پر بھاری جرمانہ عائد ہوگا۔
