محکمہ موسمیات نے 2026 کے مون سون سیزن کے حوالے سے تشویشناک پیشگوئی جاری کر دی ہے، جس کے مطابق رواں سال بارشیں معمول سے کم ہوں گی۔ یہ رپورٹ زرعی منصوبہ سازوں اور آبی ذخائر کے انتظام کرنے والے اداروں کے لیے ایک انتباہ ہے جو پہلے ہی پانی کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کی تیاری کر رہے تھے۔
موسمیاتی آؤٹ لک کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے نمی لانے والی ہوائیں کمزور رہیں گی۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث وہ دباؤ پیدا نہیں ہو رہا جو برصغیر میں مون سون کی بھاری بارشوں کا سبب بنتا ہے۔
کسانوں کے لیے خطرات فوری نوعیت کے ہیں۔ چاول، کپاس اور گنے کی فصلیں جون سے ستمبر کے دوران ہونے والی بارشوں پر انحصار کرتی ہیں۔ بارشوں میں کمی کا مطلب صرف فصل کی پیداوار میں کمی نہیں، بلکہ آبپاشی کے اخراجات میں اضافہ بھی ہے کیونکہ کاشتکاروں کو زیرِ زمین پانی کے تیزی سے گرتے ہوئے ذخائر پر انحصار کرنا پڑے گا۔
آبی ذخائر کے منتظمین بھی پریشان ہیں۔ گزشتہ دو برسوں سے پانی کی متغیر آمد کے باعث بڑے ڈیم پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر مون سون توقعات کے مطابق نہ برسا، تو ملک میں پن بجلی کی پیداوار میں کمی اور شہری علاقوں میں پانی کی راشننگ کا خدشہ سر اٹھا سکتا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات اسے صرف ایک موسمی تغیر نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ "خشک” مون سون کا بڑھتا ہوا رجحان موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے۔ ماضی میں بارشیں متوقع اور مسلسل ہوتی تھیں، مگر اب صورتحال مختصر اور شدید بارشوں کے بعد طویل خشک سالی میں بدل چکی ہے۔ یہ چکر سیلاب اور قحط دونوں کے انتظام کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ہنگامی منصوبہ سامنے نہیں آیا، تاہم صوبائی محکمہ زراعت نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسی فصلوں کا انتخاب کریں جنہیں کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
