ہمارے قدموں تلے ایک ایسا وسیع اور پوشیدہ نظام موجود ہے جو زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ محققین نے پہلی بار ان فنگل نیٹ ورکس (کائی نما جال) کے حجم کا درست تخمینہ لگا لیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورکس سالانہ 13 گیگا ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جریدے ‘کرنٹ بائیولوجی’ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پہلی بار عالمی سطح پر مائیکورائزا فنگس کے پھیلاؤ کا نقشہ تیار کیا گیا ہے۔ یہ نامیاتی نیٹ ورک زمین پر موجود تقریباً 90 فیصد پودوں کے ساتھ ایک باہمی تعلق قائم رکھتا ہے، جہاں یہ مٹی سے غذائی اجزاء فراہم کرنے کے بدلے پودوں سے کاربن حاصل کرتا ہے۔
تحقیقی اعداد و شمار تصدیق کرتے ہیں کہ یہ فنگل شاہراہیں کاربن جذب کرنے والے ایک اہم ‘سنک’ کا کام کرتی ہیں، جو سالانہ عالمی فوسل فیول کے اخراج کا تقریباً 36 فیصد حصہ اپنے اندر محفوظ کر لیتی ہیں۔ اگر یہ حیاتیاتی عمل نہ ہو، تو فضا میں کاربن کی سطح موجودہ شرح سے کہیں زیادہ ہو گی، جس سے موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار مزید تیز ہو جائے گی۔
اس تحقیق کی مرکزی رکن، ہائیڈی ہاکنز کے مطابق یہ نتائج تحفظِ ماحول کے لیے ایک انتباہ ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم نے دہائیوں تک صرف درختوں اور مٹی کی اوپری سطح پر توجہ دی ہے، مگر نیچے موجود اس اہم پلمبنگ سسٹم کو نظر انداز کیا ہے۔ اگر ہم مٹی کو بے جا کھودیں یا خراب کریں، تو ہم صرف زمین نہیں بلکہ سیارے کے کاربن کو ذخیرہ کرنے والے سب سے بڑے میکانزم کو تباہ کر رہے ہیں۔”
موجودہ زرعی طریقہ کار ان نیٹ ورکس کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ زمین کی گہری ہل جوتائی، کیمیائی کھادوں کا بے دریغ استعمال اور زہریلی ادویات ان نازک دھاگوں کو توڑ دیتی ہیں، جس سے وہ انفراسٹرکچر ہی ختم ہو جاتا ہے جو خود فصلوں کو سہارا دیتا ہے۔ جب یہ جال تباہ ہوتے ہیں، تو ان میں قید کاربن دوبارہ فضا میں خارج ہو کر آلودگی کا باعث بنتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان نیٹ ورکس کو بحال کرنا صرف ماحولیاتی تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت بھی ہے۔ صحت مند فنگل نیٹ ورکس مصنوعی کھادوں پر انحصار کم کرتے ہیں اور خشک سالی کے خلاف پودوں کی قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔
اس اہم پیش رفت کے باوجود، یہ نقشہ سازی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہم نے ابھی ان پوشیدہ ایکو سسٹمز کی سطح کو ہی چھوا ہے۔ فی الحال اہم بات یہ ہے کہ کرہ ارض کی فضا کی صحت براہِ راست ہمارے پیروں تلے موجود مٹی کی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔
