اسلام آباد — وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شذا فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے ‘پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل، 2026’ نے ملک بھر میں نجی جائیداد کے آئینی حقوق اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اس مجوزہ قانون سازی کے ذریعے 1996 کے اصل ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو تیز کرنا، فائبر آپٹک نیٹ ورکس کو پھیلانا، اور ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے انفراسٹرکچر کی تنصیب کو آسان بنانا ہے۔
تاہم، اس بل کی مجوزہ دفعات 27-اے (27-A) اور 27-بی (27-B) پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ دفعات ٹیلی کام کمپنیوں کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ ملک بھر میں کہیں بھی کسی بھی نجی یا سرکاری جائیداد تک رسائی حاصل کر کے وہاں فائبر آپٹک کیبلز، موبائل ٹاورز، جنریٹر، اور دیگر آلات نصب کر سکیں۔
مجوزہ قانون کے تحت جائیداد کے مالکان اور ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان تنازع کی صورت میں درج ذیل طریقہ کار اپنایا جائے گا:
-
مذاکرات کا عمل: جائیداد کے مالک کو کمپنی کی درخواست پر جواب دینے کے لیے 30 دن کا وقت دیا جائے گا۔ اگر دونوں فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا، تو ٹیلی کام کمپنی ایک ریمائنڈر نوٹس جاری کرے گی، جس کے بعد معاملہ حکومت کے مقرر کردہ افسر (ثالث) کے پاس بھیج دیا جائے گا۔
-
حتمی فیصلہ اور جرمانے: سرکاری افسر کا فیصلہ حتمی اور دونوں فریقین پر لاگو ہوگا، اور وہی جائیداد کے استعمال کا کرایہ یا معاوضہ طے کرے گا۔ اگر جائیداد کا مالک اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرتا ہے یا رکاوٹ ڈالتا ہے، تو اسے بعض حالات میں 5 کروڑ (50 ملین) روپے تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بل میں کمپنیوں کو یہ اجازت بھی دی گئی ہے کہ وہ نیٹ ورک بڑھانے کے لیے پبلک پارکوں اور دیگر سرکاری اراضی کو بغیر کسی فیس کے استعمال کر سکیں۔
ان ترامیم پر سینیٹرز اور قانونی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا کہ آئین پاکستان شہریوں کی نجی جائیداد کو تحفظ فراہم کرتا ہے، اس لیے کسی بھی فرد کو اس کی مرضی کے بغیر اپنی زمین پر ٹاور یا دیگر آلات لگانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ معروف صحافی اور اینکر پرسن محمد مالک نے بھی اس بل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بل پاس ہو گیا تو شہریوں کے پاس اپنی ہی زمین اور گھر کا اختیار نہیں رہے گا۔
دوسری جانب، وزارتِ آئی ٹی کے حکام نے جائیدادوں پر زبردستی قبضے کے تاثر کو مسترد کر دیا۔ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ ان ترامیم کا مقصد جائیدادوں پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ رائٹ آف وے (راستہ دینے کے عمل) کو آسان بنانا ہے تاکہ ملک کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے جایا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قانون میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے گا اور جن شقوں پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ان پر دوبارہ غور کر کے انہیں درست کیا جائے گا۔ سینیٹ کمیٹی نے فی الحال بل کی منظوری مؤخر کرتے ہوئے اگلی میٹنگز میں اس کی ہر شق کا باری باری جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
