Jinnah Sindh Medical University کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی میں بڑی تعداد میں لوگ استعمال شدہ اور ایکسپائرڈ ادویات کو غیر محفوظ طریقے سے تلف کر رہے ہیں، جو ماحولیات اور صحت عامہ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق شہر بھر سے کیے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ تر افراد ادویات کو گھریلو کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ انہیں نالی یا ٹوائلٹ میں بہا دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقے پانی، مٹی اور ماحول کو آلودہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا کہ عوام میں “میڈیسن ٹیک بیک سسٹم” کے بارے میں آگاہی انتہائی کم ہے، جس کی وجہ سے غیر استعمال شدہ ادویات محفوظ طریقے سے واپس کرنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح ادویات کا غلط استعمال نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں اینٹی بایوٹک ریزسٹنس جیسے سنگین عالمی مسئلے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
محققین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات کی محفوظ تلفی کے لیے باقاعدہ نظام بنایا جائے اور عوام میں آگاہی مہمات شروع کی جائیں تاکہ اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔
