لاہور — پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جو مذہبی عقیدت کا فائدہ اٹھا کر خواتین کو استخارے کے نام پر بلیک میل کرنے اور ان سے بھتہ وصول کرنے میں ملوث تھا۔
ملزم، جس کی شناخت محمد اسلم کے نام سے ہوئی ہے، خود کو ’استخارہ ایکسپرٹ‘ کے طور پر پیش کرتا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق، ملزم نے استخارے جیسی دینی روایت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے ڈھال بنایا۔ وہ خواتین کا اعتماد حاصل کر کے ان سے نجی معلومات اور تصاویر حاصل کرتا، پھر انہی معلومات کو ہتھیار بنا کر انہیں بلیک میل کرتا۔
یہ معاملہ تب سامنے آیا جب ایک متاثرہ خاتون نے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ کیسے روحانی رہنمائی کے نام پر شروع ہونے والا رابطہ ماہانہ اذیت اور مالی استحصال میں بدل گیا۔
تحقیقات میں شامل ایک سینئر افسر نے بتایا، "ملزم صرف پیسوں کا مطالبہ نہیں کرتا تھا، بلکہ خواتین کی جانب سے اعتماد میں بتائی گئی نجی تفصیلات کو ان کی ساکھ خراب کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔”
پولیس کے مطابق، ملزم سوشل میڈیا پر اشتہارات کے ذریعے اپنی خدمات کی تشہیر کرتا تھا، جس میں ازدواجی مسائل، مالی مشکلات اور ذہنی پریشانیوں کا ‘روحانی حل’ پیش کیا جاتا تھا۔ جب کوئی کلائنٹ رابطہ کرتی، تو وہ ‘روحانی صفائی’ کے بہانے نجی معلومات یا تصاویر طلب کر لیتا۔ مواد ہاتھ لگتے ہی وہ اپنا رویہ بدل دیتا اور رقم کے مطالبے کے لیے دھمکیاں دینا شروع کر دیتا۔
حکام نے لاہور کے مضافاتی علاقے میں واقع ملزم کے گھر سے کئی موبائل فونز اور ڈیجیٹل ریکارڈز قبضے میں لے لیے ہیں۔ ابتدائی فرانزک رپورٹ کے مطابق، درجنوں دیگر خواتین بھی اس کا شکار بنی ہیں، تاہم معاشرتی دباؤ اور بدنامی کے خوف سے زیادہ تر متاثرین سامنے آنے سے گریز کر رہی ہیں۔
اس گرفتاری نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موجود ان شکاری عناصر کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے جو مذہبی جذبات کو استحصال کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اگرچہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) آن لائن روحانی معالجین کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، لیکن حکام کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گمنامی کی وجہ سے ایسے نیٹ ورکس کو وقت پر پکڑنا ایک چیلنج ہے۔
ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے جبکہ تفتیشی ٹیمیں اس کے ڈیجیٹل نیٹ ورک کے مزید سراغ لگا رہی ہیں۔ پولیس نے دیگر متاثرہ خواتین سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ سامنے آئیں، اور انہیں مکمل تحفظ اور رازداری کا یقین دلایا ہے۔
