گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دنیا کے تین مختلف براعظموں میں شدید زلزلے ریکارڈ کیے گئے، جس سے ہنگامی حالات کے ذمہ دار ادارے الرٹ ہو گئے۔ بحر الکاہل سے لے کر مشرق وسطیٰ تک زمین کی تہوں میں ہونے والی یہ بڑی ہلچل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق خوش قسمتی سے کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
فلپائن کے ساحلی علاقے کٹانڈوانس کے قریب منگل کی صبح 6.2 شدت کا زلزلہ آیا۔ فلپائن کے انسٹی ٹیوٹ آف والکینو لوجی اینڈ سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ عام طور پر اتنی کم گہرائی والے زلزلے تباہ کن ہوتے ہیں، لیکن مرکز سمندر میں دور ہونے کے باعث ساحلی بستیوں میں صرف عمارتوں پر معمولی دراڑیں آئیں اور بڑے پیمانے پر تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا۔
دوسری جانب، نیوزی لینڈ کے شمال میں واقع کیرماڈیک جزائر میں 6.0 شدت کا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ‘رنگ آف فائر’ کے اس حساس علاقے میں زلزلے کے جھٹکے شدید تھے، تاہم جیونیٹ کے مطابق آبادی سے دور مرکز ہونے کی وجہ سے کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دریں اثنا، ایران کے سرحدی علاقے میں 5.4 شدت کے زلزلے نے مکینوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ سمندری زلزلوں کے برعکس، یہ زلزلہ گنجان آباد علاقوں کے قریب آیا۔ مقامی حکام نے فوری طور پر ہلالِ احمر کی ٹیمیں روانہ کیں، کیونکہ پرانی تعمیرات کے گرنے کا خدشہ تھا۔ منگل کی شام تک کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی، البتہ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے درجنوں افراد زخمی ضرور ہوئے۔
اگرچہ یہ زلزلے جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے منسلک نہیں، لیکن اتنے کم وقت میں ان کا تسلسل زمین کی پرتوں کی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ واقعات الگ الگ ہیں اور ان میں کوئی "چین ری ایکشن” نہیں، تاہم یہ صورتحال ان علاقوں میں رہنے والوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔
متاثرہ علاقوں میں ہنگامی ادارے اب ریسکیو سے نکل کر نقصانات کے تخمینے پر کام کر رہے ہیں۔ ایران میں ترجیح دیہی مکانات کی ساختی مضبوطی کا جائزہ لینا ہے، جبکہ فلپائن میں ساحلی علاقوں پر آفٹر شاکس کی نگرانی جاری ہے۔
زلزلہ پیما ماہرین کے مطابق ٹیکنونک پلیٹس کی حرکت معمول کا حصہ ہے، لیکن اس کی شدت کی پیش گوئی کرنا ناممکن ہے۔ ایران کے ایک مقامی عہدیدار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم بدترین حالات کے لیے خود کو تیار رکھتے ہیں، لیکن ہماری زندگی خاموشی کے انتظار میں گزرتی ہے۔”
