پیرس — اس ہفتے درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تو شہر کے مشہور و معروف فوارے بھی شہریوں کو ٹھنڈک پہنچانے میں ناکام رہے۔ پیرس کے رہائشیوں نے شہر کے سرکاری سوئمنگ پولز کو چھوڑ کر شمال مشرق میں واقع صنعتی نہر ‘کینال ڈی لورک’ کا رخ کر لیا ہے، جو کبھی کوئلے اور سامان کی ترسیل کا مرکز ہوا کرتی تھی۔
یہ نہر اب پیرس کے شہریوں کے لیے موسم گرما کی غیر سرکاری پناہ گاہ بن چکی ہے۔ شہری انتظامیہ حفاظتی خطرات اور کشتیوں کی نقل و حمل کے باعث یہاں تیراکی سے سختی سے منع کرتی ہے، لیکن گرمی سے بلکتے لوگ ان تنبیہی بورڈز کی پرواہ کرنے کو تیار نہیں۔
مقامی رہائشیوں کے لیے یہ نہر شہر کے مہنگے اور باقاعدہ پولز کے مقابلے میں زیادہ پرکشش ہے، کیونکہ یہاں نہ کوئی داخلہ فیس ہے، نہ بکنگ کی جھنجھٹ اور نہ ہی قطاروں کا انتظار۔ انیسویں آرونڈیسمنٹ کے 28 سالہ رہائشی مارک-انتونی نے ‘بیسن ڈی لا ویلیٹ’ کے قریب پانی میں اترتے ہوئے کہا، "یہ نہ تو دریائے سین ہے اور نہ ہی بحیرہ روم۔ لیکن جب سڑکیں پگھل رہی ہوں، تو آپ لائف گارڈ نہیں ڈھونڈتے، آپ بس پانی تلاش کرتے ہیں۔”
انتظامیہ کے لیے یہ صورتحال ایک مستقل سر درد بن چکی ہے۔ پولیس کبھی کبھار گشت کر کے تیراکوں کو باہر نکالتی ہے، لیکن جیسے ہی پولیس کی گاڑیاں اوجھل ہوتی ہیں، نہر میں چھلانگیں دوبارہ شروع ہو جاتی ہیں۔ گرمی کی لہروں کے بڑھتے ہوئے دورانیے نے عوامی تحفظ اور شہری ٹھنڈک کی ضرورت کے درمیان کشمکش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
نہر کے پانی کا معیار بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ شہر نے دریائے سین کو اولمپک مقابلوں کے لیے صاف کرنے پر کروڑوں خرچ کیے، لیکن شمال کی ان صنعتی نہروں پر صفائی کا وہ کام نہیں ہوا جو ضروری تھا۔ ماہرین صحت پانی میں بیکٹیریا کے خطرات سے خبردار کرتے ہیں، مگر شہریوں کے لیے ان طبی انتباہات سے زیادہ اہم گرمی سے فوری نجات ہے۔
پیرس کا موجودہ تعمیراتی ڈھانچہ گرمی کو جذب کرنے کے بجائے اسے قید کر لیتا ہے، جس سے شام تک شہر کے گنجان آباد علاقے کسی تندور کی طرح دہکنے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے شہر کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، ان لوگوں کے درمیان فرق بھی واضح ہوتا جا رہا ہے جو ایئر کنڈیشنڈ گھروں میں رہنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور وہ جو نہر کے ٹھنڈے پانی میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔
فی الحال، یہ نہر ایک عارضی عوامی مرکز بنی ہوئی ہے۔ سورج ڈھلتے ہی مجمع چھٹ جاتا ہے، پیچھے پلاسٹک کی خالی بوتلیں اور پانی کی نمی بھری بو رہ جاتی ہے۔ جب تک شہر کے شمال مشرقی علاقوں کے لیے متبادل اور محفوظ ذرائع فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک یہ صنعتی نہر پیرس کا سب سے مقبول—اور خطرناک—سوئمنگ پول بنی رہے گی۔
