اسلام آباد: پاکستان بھر میں یومِ عاشور (10 محرم الحرام) مذہبی عقیدت، احترام اور امن و امان کے سخت انتظامات کے ساتھ منایا گیا۔ ملک کے مختلف شہروں میں جلوس اور مجالس کا انعقاد کیا گیا، جہاں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ سمیت ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں جلوسوں اور مجالس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے۔ جلوسوں کے راستوں پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات رہے، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں، واک تھرو گیٹس، ڈرون نگرانی اور سخت چیکنگ کا بھی انتظام کیا گیا۔
ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان نافذ کیا گیا، جبکہ بعض حساس علاقوں میں موبائل فون سروس بھی عارضی طور پر معطل رہی۔ ریسکیو ادارے، ایمبولینس سروسز اور طبی امدادی کیمپ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہے۔
حکومتی حکام نے امن و امان برقرار رکھنے میں عوام، رضاکاروں اور مذہبی رہنماؤں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں عاشورہ کے جلوس اور مذہبی اجتماعات پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے۔
یومِ عاشور دنیا بھر کے مسلمان حضرت امام حسینؓ، نواسۂ رسول حضرت محمد ﷺ، اور ان کے جانثار ساتھیوں کی میدانِ کربلا میں دی گئی عظیم قربانی کی یاد میں مناتے ہیں، جو حق، انصاف، صبر اور ظلم کے خلاف استقامت کی لازوال علامت ہے۔
