اسلام آباد: امریکہ کی جانب سے بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد پاکستان کے لیے ایران سے خام تیل درآمد کرنے کا امکان ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، جس سے ملک کو نسبتاً سستا توانائی کا ذریعہ حاصل ہونے اور درآمدی اخراجات میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد ایران سے تیل کی درآمد کے امکانات پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی بل کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہونے کے باعث جغرافیائی طور پر بھی ایک موزوں سپلائر سمجھا جاتا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل تک رسائی پاکستان کو توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، ایندھن کی درآمدی لاگت کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ممکنہ درآمدی فیصلے سے قبل بین الاقوامی پابندیوں، قانونی تقاضوں، ادائیگی کے طریقہ کار اور سفارتی اثرات کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
حکومت کی جانب سے فی الحال ایران سے تیل کی درآمد بحال کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم پابندیوں میں عارضی نرمی نے دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون سے متعلق پالیسی مباحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان توانائی کے شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
اگر مستقبل میں ایرانی تیل کی درآمد شروع ہوتی ہے تو اس سے پاکستان کے درآمدی ایندھن کے اخراجات میں کمی، توانائی کی فراہمی میں استحکام اور بیرونی مالیاتی دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
