کیف: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بیلاروس کے خلاف اپنا مؤقف مزید سخت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بیلاروس اپنی سرزمین پر موجود مواصلاتی ریلی اسٹیشنز کے ذریعے روسی ڈرون حملوں میں بالواسطہ مدد فراہم کر رہا ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق بیلاروس اور یوکرین کی سرحد کے قریب نصب یہ ریلی اسٹیشنز مبینہ طور پر روسی ڈرونز کی رہنمائی کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ زیلنسکی نے بیلاروس سے مطالبہ کیا کہ ایک ہفتے کے اندر یہ آلات ہٹا دیے جائیں، بصورت دیگر یوکرین خود کارروائی کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
یہ بیان یوکرین کی جانب سے بیلاروس کے خلاف نسبتاً سخت پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ بیلاروس نے براہِ راست اپنی فوج روس کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں کی، تاہم اس نے 2022 میں جنگ کے آغاز سے روس کو اپنی سرزمین، عسکری ڈھانچے اور لاجسٹک سہولیات استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ دوسری جانب کریملن نے زیلنسکی کے بیان کو بیلاروس کی خودمختاری میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔
بعد ازاں زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کی وارننگ کے بعد مذکورہ ریلی اسٹیشنز نے کام کرنا بند کر دیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ انہیں مکمل طور پر ہٹا دیا گیا یا صرف عارضی طور پر بند کیا گیا۔ یوکرینی حکام نے بیلاروس کی سمت سے آنے والے ڈرون حملوں میں بھی کمی کی اطلاع دی ہے۔
