ہنگری میں وکٹر اوربان کا طویل سیاسی دور آہستہ آہستہ ختم نہیں ہوا بلکہ ایک جھٹکے میں اختتام کو پہنچا۔ 12 اپریل 2026 کے پارلیمانی انتخاب میں ووٹروں نے 16 برس سے برسراقتدار اوربان کو ہٹا کر پیٹر میگیار اور ان کی تیسا پارٹی کو کامیاب کر دیا۔ اوربان نے اسی رات شکست تسلیم کر لی، جبکہ ابتدائی اور بعد کی رپورٹنگ میں تیسا کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کی نشاندہی کی گئی۔
یہی بھاری کامیابی اس خبر کے دوسرے حصے کو اہم بناتی ہے۔ میگیار کسی ایسے رہنما کی طرح نظر نہیں آ رہے جو طویل اور رسمی انتقالِ اقتدار کا انتظار کرے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی تیزی سے ہو اور وہ 5 مئی تک وزیرِاعظم کا عہدہ سنبھال لیں۔ اس جلدی کی اپنی سیاسی منطق ہے: جتنا زیادہ وقفہ ہوگا، اتنا ہی زیادہ موقع پرانے نظام کو اپنے اثرات برقرار رکھنے کا ملے گا۔
تیزی کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے کام بہت بڑا ہے۔ اوربان کے دورِ حکومت میں ہنگری کے اداروں، عدالتی ڈھانچے، میڈیا کے ماحول اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی سمت بدل گئی تھی۔ میگیار نے خود کو ایک یورپ نواز قدامت پسند کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کا انداز انقلابی نہیں، مگر پالیسی کی سطح پر تبدیلیاں بہت نمایاں ہو سکتی ہیں۔ گارڈین کے مطابق ان کی ٹیم پہلے ہی یورپی حکام سے غیر رسمی بات چیت کر رہی ہے، اور برسلز یہ توقع کر رہا ہے کہ نئی حکومت قانون کی حکمرانی، بدعنوانی کے خلاف اقدامات، پناہ سے متعلق پالیسی اور تعلیمی آزادیوں کے معاملات پر جلد پیش رفت کرے گی تاکہ منجمد یورپی فنڈز کھل سکیں۔
خارجہ پالیسی وہ میدان ہے جہاں تبدیلی سب سے پہلے محسوس ہو سکتی ہے۔ اوربان گزشتہ برسوں میں روس کے معاملے پر یورپی یونین کے اندر ایک مشکل شراکت دار بن چکے تھے، خاص طور پر یوکرین کی امداد اور روس پر پابندیوں کے سوال پر۔ حالیہ رپورٹنگ کے مطابق میگیار کے حلف اٹھانے کے بعد ہنگری کی جانب سے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے یورپی قرض پر عائد رکاوٹ ختم ہونے کی توقع ہے۔ یوکرین میں اس تبدیلی کو محتاط امید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ وہاں بھی یہ مانا جا رہا ہے کہ پرانے تنازعات فوراً ختم نہیں ہوں گے۔
اس کے باوجود “جلدی میں آدمی” کا مطلب یہ نہیں کہ راستہ آسان ہے۔ بھاری مینڈیٹ کے باوجود میگیار کو ایسے ریاستی ادارے ملیں گے جو اوربان کے 16 سالہ دور میں تشکیل پائے۔ ایک وزیرِاعظم کو بدلنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر طاقت کے پرانے طریقوں کو بدلنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ موجودہ رپورٹنگ میں پولینڈ کے حکام اور قانونی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ صرف وعدے کافی نہیں ہوں گے؛ برسلز کو حقیقی اور فوری تبدیلیاں چاہییں، اور اداروں کی سوچ بدلنے میں وقت لگے گا۔
اس لیے یہ ہیڈلائن بڑی حد تک درست محسوس ہوتی ہے۔ اوربان کا دور ووٹ کے ذریعے اچانک ختم ہوا، لیکن اس کے بعد کا مرحلہ فوری طور پر مکمل نہیں ہوگا۔ میگیار کے پاس رفتار بھی ہے، مینڈیٹ بھی، اور عجلت بھی۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس رفتار کو پائیدار سیاسی تعمیرِ نو میں بدل سکیں گے یا نہیں۔
