امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے غیر شناخت شدہ اڑنے والی اشیاء، جنہیں اب باضابطہ طور پر ‘یو اے پیز’ (UAPs) کہا جاتا ہے، سے متعلق برسوں سے دبی ہوئی خفیہ دستاویزات کا نیا پلندہ منظرِ عام پر لا کر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ دستاویزات پینٹاگون کے خصوصی شعبے ‘آل ڈومین اناملی ریزولوشن آفس’ (AARO) کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہیں، جن میں فوجی پائلٹس اور ریڈار آپریٹرز کے وہ مشاہدات شامل ہیں جو اب تک عام شہریوں کی پہنچ سے دور تھے۔
یہ اقدام کسی اچانک تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی کانگریس کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا ثمر ہے۔ سینیٹر کرسٹن گلی برانڈ اور مارکو روبیو جیسے بااثر رہنماؤں نے فوج پر مسلسل زور دیا تھا کہ ان واقعات کو محض ‘فلمی قصے’ سمجھ کر نظرانداز کرنا بند کیا جائے اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
ان دستاویزات میں اگرچہ خلائی مخلوق یا ‘ایلینز’ کی موجودگی کا کوئی حتمی یا ‘سلگتا ہوا ثبوت’ موجود نہیں ہے، لیکن یہ ان فضائی خطرات کی نشاندہی ضرور کرتی ہیں جن کا سامنا امریکی پائلٹس کو اکثر رہتا ہے۔ فائلوں میں ایسے واقعات درج ہیں جہاں طیارے ان پراسرار اشیاء سے ٹکراتے ٹکراتے بچے یا جہاں ریڈار نے ایسی حرکات ریکارڈ کیں جو موجودہ دور کی ایرو اسپیس ٹیکنالوجی کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔
دستاویزات میں شامل 2021 کا ایک واقعہ خاص طور پر توجہ کا مرکز ہے۔ امریکی مشرقی ساحل کے قریب ایک پائلٹ نے بلندی پر ایک ‘شفاف اور مکعب نما’ (Cube-like) چیز دیکھی جو تیز ہواؤں کے باوجود اپنی جگہ پر ساکن کھڑی تھی۔ یہ چیز تین گھنٹے تک ریڈار پر موجود رہی، لیکن ڈیٹا سے یہ ثابت نہ ہو سکا کہ یہ کسی انجن یا معلوم ایندھن کے سہارے اڑ رہی تھی۔ تفتیش کاروں نے اسے ‘غیر واضح’ قرار دے کر رپورٹ داخل کر دی۔
دوسری جانب، شفافیت کے علمبردار اور تحقیقاتی صحافی اب بھی مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پینٹاگون اب بھی اہم ترین ویڈیوز اور ڈیٹا کو ‘قومی سلامتی’ کا بہانہ بنا کر چھپا رہا ہے۔ اے اے آر او (AARO) کو اگرچہ شفافیت کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن ناقدین کے مطابق یہ ادارہ فوج کی روایتی رازداری اور عوامی جوابدہی کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
"ہم مذاق اڑانے کے کلچر سے نکل کر تحقیق کی طرف بڑھ رہے ہیں،” ایک سابق انٹیلی جنس عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ "لیکن تحقیق کا مطلب مکمل انکشاف نہیں ہے۔ فوج اب بھی اس خوف میں مبتلا ہے کہ ان اشیاء کی حقیقت تسلیم کرنے سے ہمارے اپنے فضائی دفاعی نظام کی خامیاں دشمن پر ظاہر ہو سکتی ہیں۔”
پینٹاگون کی جانب سے ان فائلوں کا اجرا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں سال کے آخر میں امریکی کانگریس میں اس موضوع پر مزید سماعتیں متوقع ہیں۔ عوام کے لیے یہ شاید محض ایک تجسس ہو، لیکن ان پائلٹس کے لیے جو روزانہ آسمانوں میں ان کا سامنا کرتے ہیں، یہ معمہ اب ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جو فزکس کے رائج قوانین کو چیلنج کر رہا ہے۔
