امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان “حقیقی دوستی” پروان چڑھ رہی ہے، جبکہ انہوں نے امریکا ایران مذاکرات میں اسلام آباد کے کردار کو سراہا ہے۔
ہیگستھ نے یہ بات 30 مئی 2026 کو سنگاپور میں ہونے والے شنگری لا ڈائیلاگ کے دوران کہی، جہاں ان سے علاقائی سلامتی اور جنوبی ایشیا میں امریکی شراکت داریوں سے متعلق سوال کیا گیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے بھارت کا ذکر کیا تھا، تاہم جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کا ذکر بھی “بہت آسانی سے” کر سکتے تھے، کیونکہ پاکستان کی قیادت ایران سے متعلق امن کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہیگستھ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔ ان کے بقول امریکا اور پاکستان کے درمیان ایک ایسی شراکت داری بن رہی ہے جسے وہ “true friendship” کہہ سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک حساس وقت پر سامنے آیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد مذاکرات کا عمل جاری ہے، جبکہ پاکستان مبینہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان پیغامات اور سفارتی رابطوں کے لیے ایک اہم چینل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد کے لیے یہ کردار آسان نہیں، کیونکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے، جبکہ امریکا عالمی طاقت ہونے کے ساتھ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔
اسی فورم پر ہیگستھ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال ابھی بھی نازک ہے۔ ایک طرف واشنگٹن سفارت کاری کی بات کر رہا ہے، دوسری طرف عسکری دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کے لیے امریکی وزیر دفاع کی یہ تعریف سفارتی طور پر اہم ہے۔ ماضی میں امریکا پاکستان تعلقات اکثر اتار چڑھاؤ کا شکار رہے، خاص طور پر افغانستان، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور واشنگٹن کی بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کے باعث۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے کردار کو کھلے عام سراہنا اسلام آباد کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جائے گا۔
تاہم، یہ بھی واضح ہے کہ امریکا اپنی بھارت پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔ ہیگستھ نے بھارت کو بھی خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن جنوبی ایشیا میں دونوں ممالک کو الگ الگ زاویوں سے دیکھ رہا ہے: بھارت کو انڈو پیسیفک حکمت عملی کے بڑے شراکت دار کے طور پر، اور پاکستان کو علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر۔
اسلام آباد کے لیے یہ لمحہ اس کی حالیہ سفارتی پالیسی کی توثیق بھی ہے۔ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے امریکا، چین، خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ توازن مشکل ضرور ہے، مگر ایران مذاکرات کے معاملے میں بظاہر اسی پالیسی نے پاکستان کو ایک کارآمد سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ “حقیقی دوستی” کا یہ جملہ صرف ایک سفارتی تعریف رہے گا یا امریکا پاکستان تعلقات میں کسی بڑے موڑ کا اشارہ بنے گا۔ فی الحال اتنا ضرور ہے کہ ہیگستھ کے بیان نے اسلام آباد کی خاموش سفارت کاری کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کر دیا ہے — اور پاکستان کے لیے یہ معمولی بات نہیں۔
