ماسکو اور کیف نے رواں ہفتے مقامی سطح پر جنگ بندی کے اعلانات تو کیے ہیں، لیکن زمینی حقائق بدستور تلخ ہیں۔ ڈونباس کے علاقوں میں توپ خانے کی گونج اور رہائشی علاقوں پر حملے بدستور جاری ہیں۔
کریملن کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عارضی وقفے کی تجویز سامنے آئی، جسے یوکرینی حکام نے ایک "حربہ” قرار دے کر مسترد کر دیا۔ کیف کا موقف ہے کہ روس ماضی میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے، اور یہ پیشکش محض اپنی تھکی ہوئی فوج کو دوبارہ منظم کرنے کا ایک بہانہ ہے۔
چاسیو یار اور پوکرووسک کے محاذ پر خندقوں میں موجود فوجیوں کے لیے ان سیاسی بیانات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران گولہ باری کی شدت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ دونوں فریقین موسم سرما کی آمد سے قبل، جب زمین کیچڑ میں تبدیل ہو کر نقل و حرکت کو ناممکن بنا دے گی، تزویراتی اہمیت کے حامل علاقوں پر قبضہ مضبوط کرنے کی کوشش میں ہیں۔
محاذِ جنگ پر تعینات ایک یوکرینی ڈرون آپریٹر نے کہا، "یہاں جنگ بندی کی بات کوئی نہیں کرتا۔ ہم صرف گولہ بارود کی کمی اور دشمن کی گولہ باری کے بارے میں سوچتے ہیں۔ باقی سب کچھ صرف عالمی خبروں کے لیے ایک شور ہے۔”
دوسری جانب سفارتی محاذ پر بھی تعطل برقرار ہے۔ روس کا مطالبہ ہے کہ 2022 میں الحاق کیے گئے چار علاقوں پر اس کے کنٹرول کو تسلیم کیا جائے، جبکہ یوکرین کا موقف واضح ہے: کسی بھی پائیدار امن سے قبل تمام روسی افواج کا انخلا ضروری ہے۔
عالمی مبصرین ان اعلانات کو شکوک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماضی میں "کرسمس” یا "ایسٹر” کے موقع پر ہونے والی جنگ بندیاں چند گھنٹوں میں ہی ٹوٹ چکی ہیں۔ کسی غیر جانبدار ثالث یا مانیٹرنگ میکانزم کی عدم موجودگی میں، کسی بھی جانب سے ہونے والی معمولی سی خلاف ورزی دوبارہ مکمل جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
سفارتی بیان بازی کے برعکس، ہسپتالوں میں زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپرو اور ڈونیٹسک کے طبی مراکز میں آنے والے مریضوں کی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کا فیصلہ سفارت کاری سے نہیں، بلکہ میدانِ جنگ میں ہتھیاروں سے ہو رہا ہے۔
جب تک دونوں فریقین کسی قابلِ تصدیق معاہدے پر دستخط نہیں کرتے، تشدد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ عام شہریوں کے لیے یہ متضاد خبریں صرف ایک اور غیر یقینی صورتحال ہیں، جس نے پہلے ہی لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے۔
