اقوام متحدہ (UN) کی نئی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) عالمی معیشت کے لیے ایک طاقتور محرک ثابت ہو سکتی ہے، جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری، اور سائنسی تحقیق کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مناسب قوانین اور نگرانی کے بغیر AI عدم مساوات میں اضافہ، لاکھوں ملازمتوں کے متاثر ہونے اور ڈیجیٹل خلیج کو مزید وسیع کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق AI مختلف صنعتوں اور سرکاری خدمات میں انقلاب لا سکتی ہے، لیکن اگر جامع پالیسیاں نہ اپنائی گئیں تو اس کے فوائد صرف چند ممالک اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود رہ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، افرادی قوت کی تربیت اور عالمی تعاون میں سرمایہ کاری کریں تاکہ AI کے فوائد سب تک پہنچ سکیں۔
رپورٹ میں غلط معلومات، الگورتھمک جانبداری، رازداری کے مسائل، سائبر سیکیورٹی خطرات اور مارکیٹ میں اجارہ داری جیسے خدشات سے نمٹنے کے لیے AI کے عالمی ضابطہ کار کو مضبوط بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
