واشنگٹن: امریکی حکومت نے گرین کارڈ کے عمل سے متعلق نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت امریکا میں عارضی ویزوں پر موجود کئی غیر ملکی شہریوں کو مستقل رہائش کے لیے درخواست امریکا کے اندر سے دینے کے بجائے اپنے ملک واپس جا کر امریکی قونصل خانے کے ذریعے کارروائی مکمل کرنا پڑ سکتی ہے۔
امریکی شہریت و امیگریشن سروسز، یعنی USCIS، نے 22 مئی 2026 کو جاری پالیسی میمورنڈم میں کہا کہ “ایڈجسٹمنٹ آف اسٹیٹس” ایک خودکار حق نہیں بلکہ افسران کی صوابدید پر دی جانے والی رعایت ہے۔ نئی ہدایت کے مطابق جہاں قونصلر پروسیسنگ دستیاب ہو، وہاں درخواست گزاروں سے عمومی طور پر توقع کی جائے گی کہ وہ امریکا سے باہر جا کر گرین کارڈ کا عمل مکمل کریں۔
یہ تبدیلی خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہے جو امریکا میں طالب علم، عارضی ملازم، سیاح یا کسی اور نان امیگرنٹ ویزے پر موجود ہیں۔ USCIS کے بیان کے مطابق ایسے ویزے محدود مدت اور مخصوص مقصد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، اور امریکا کا دورہ گرین کارڈ کے عمل کا پہلا قدم نہیں بننا چاہیے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے قانونی طور پر امریکا میں موجود بہت سے لوگ “ایڈجسٹمنٹ آف اسٹیٹس” کے ذریعے ملک چھوڑے بغیر مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔ اس میں امریکی شہریوں کے شریک حیات، ورک ویزا رکھنے والے افراد، طلبہ، سیاسی پناہ کے درخواست گزار اور بعض دیگر کیٹیگریز شامل تھیں۔ نئی پالیسی اسی پرانی سہولت کو محدود کرتے ہوئے اسے غیر معمولی حالات سے مشروط کر رہی ہے۔
USCIS نے کہا ہے کہ “غیر معمولی حالات” میں کچھ افراد کو امریکا کے اندر رہتے ہوئے درخواست مکمل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، مگر یہ فیصلہ افسران کیس ٹو کیس بنیاد پر کریں گے۔ ادارے نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایسے افراد جن کی درخواست امریکا کے “معاشی مفاد” یا “قومی مفاد” سے جڑی ہو، ممکنہ طور پر ملک کے اندر رہ کر کارروائی جاری رکھ سکیں گے۔
تاہم سب سے بڑی الجھن ابھی باقی ہے۔ USCIS نے واضح نہیں کیا کہ یہ پالیسی کب سے مکمل طور پر نافذ ہوگی، پہلے سے زیر التوا درخواستوں پر اس کا اطلاق ہوگا یا نہیں، اور اگر کسی درخواست گزار کو اپنے ملک واپس بھیجا گیا تو کیا اسے پورے عمل کے دوران وہیں رہنا ہوگا۔ یہی نکتہ خاندانوں، وکلا اور امیگریشن تنظیموں کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔
امیگریشن وکلا کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خاندانوں کی جدائی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی امریکی شہری کا شریک حیات گرین کارڈ کے لیے درخواست دے رہا ہے اور اسے قونصلر پروسیسنگ کے لیے ملک سے باہر جانا پڑا، تو ویزا تاخیر یا سفارتی رکاوٹوں کی وجہ سے وہ مہینوں، بلکہ بعض صورتوں میں برسوں تک امریکا واپس نہیں آ سکے گا۔
یہ خطرہ ان ممالک کے شہریوں کے لیے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے جہاں امریکی سفارت خانے مکمل طور پر کام نہیں کر رہے، ویزا پروسیسنگ محدود ہے، یا سفری پابندیاں نافذ ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسے حالات میں درخواست گزار قانونی عمل شروع کرنے کے باوجود پھنس سکتے ہیں۔
اس پالیسی کے اثرات ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے والوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ H-1B، L-1 اور دیگر ورک ویزا رکھنے والے کئی افراد برسوں تک امریکا میں کام کرنے کے بعد آجر کی اسپانسرشپ کے ذریعے مستقل رہائش کے لیے اپلائی کرتے ہیں۔ نئی ہدایات کے بعد صرف قانونی حیثیت برقرار رکھنا کافی نہیں سمجھا جائے گا؛ افسران یہ بھی دیکھیں گے کہ درخواست گزار کو امریکا کے اندر سے ہی اسٹیٹس تبدیل کرنے کی اجازت کیوں دی جائے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تقریباً 6 لاکھ افراد ہر سال امریکا کے اندر موجود رہتے ہوئے گرین کارڈ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ دوسری رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر متاثر ہونے والے موجودہ یا ممکنہ درخواست گزاروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
امیگریشن تنظیموں اور قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پالیسی عدالتوں میں چیلنج ہو سکتی ہے، کیونکہ ایڈجسٹمنٹ آف اسٹیٹس امریکی امیگریشن نظام کا طویل عرصے سے حصہ رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ نان امیگرنٹ ویزا عارضی قیام کے لیے ہوتا ہے، مستقل رہائش کے راستے کے طور پر نہیں۔
فی الحال درخواست گزاروں کے لیے سب سے اہم بات یہی ہے کہ وہ اپنی امیگریشن کیٹیگری، ویزا اسٹیٹس اور زیر التوا درخواست کے بارے میں تازہ قانونی مشورہ حاصل کریں۔ پالیسی کا متن سخت ہے، مگر اس کی عملی تشریح آنے والے دنوں میں USCIS افسران، قونصل خانوں اور ممکنہ عدالتی کارروائیوں سے مزید واضح ہوگی۔
