اولیویا روڈریگو نے اپنے نئے گیت میں محبت کو ایک خوبصورت مگر ادھورا سہارا قرار دیا ہے—ایسا سہارا جو دل کو تھام تو سکتا ہے، مگر انسان کے اندر چھپی بے یقینی، خوف اور خود شک کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔
امریکی گلوکارہ اولیویا روڈریگو نے اپنا نیا گیت ریلیز کر دیا ہے، جو ان کے آنے والے تیسرے البم ’’تم محبت میں ہو، پھر بھی کتنی اداس لگتی ہو‘‘ کا حصہ ہے۔ یہ گانا اکیس مئی کو سامنے آیا، جبکہ اس کی ویڈیو بائیس مئی کو جاری کی گئی۔ البم کی ریلیز بارہ جون کے لیے طے ہے۔
روڈریگو نے اس گانے کو اپنے البم کا مرکزی خیال قرار دیا ہے۔ ان کے بقول یہ گانا پورے ریکارڈ کے جذباتی نکتے کو واضح کرتا ہے: محبت بہت طاقتور ہو سکتی ہے، مگر یہ ہر زخم کا علاج نہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی لکھا کہ یہ گانا البم کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
گانے کی سب سے نمایاں بات یہی ہے کہ روڈریگو اس بار روایتی رومانوی کہانی نہیں سنا رہیں۔ وہ یہ نہیں کہتیں کہ محبت ناکام ہو گئی، بلکہ اس سے زیادہ پیچیدہ بات کرتی ہیں: محبت موجود ہے، شاید سچی بھی ہے، لیکن پھر بھی انسان اپنے اندر کے اندھیرے سے خود ہی لڑتا ہے۔ گانے کے بول خود شک، حسد، ذہنی بے چینی اور اس احساس کے گرد گھومتے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص آپ کو مکمل طور پر “ٹھیک” نہیں کر سکتا۔
گانے کے عنوان نے فوری طور پر مداحوں کو مشہور برطانوی بینڈ کی طرف متوجہ کیا، خاص طور پر اس لیے کہ روڈریگو کی بینڈ کے مرکزی گلوکار رابرٹ اسمتھ سے دوستی بھی خبروں میں رہی ہے۔ تاہم روڈریگو نے ایک ریڈیو پروگرام میں واضح کیا کہ اس گانے کا بینڈ سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ رابرٹ اسمتھ سے اکثر بات کرتی ہیں، مگر اس عنوان کو بینڈ کے حوالے سے نہیں چنا گیا۔
گانے کی ویڈیو بھی اسی خیال کو آگے بڑھاتی ہے۔ ویڈیو میں روڈریگو انیس سو چالیس کی دہائی کے انداز سے متاثر ایک نرس کے روپ میں نظر آتی ہیں؛ پرانے انداز کے بال، نرس کی ٹوپی، گہری سرخ لپ اسٹک اور ایک خواب ناک اسپتال جیسا ماحول۔ بظاہر سب کچھ علاج اور شفا کے گرد ہے، مگر کہانی آہستہ آہستہ یہ دکھاتی ہے کہ جس شخص کو مرہم لگانا تھا، وہ خود بھی مریض بن سکتا ہے۔
یہ گانا ان کے پہلے گیت ’’اتنی دلکش کہ جان لے لے‘‘ کے بعد آیا ہے، جو نئے البم کی تشہیری مہم کا حصہ تھا۔ پہلے گیت میں رومانس کا جو ابتدائی نشہ تھا، نیا گانا اس کے بعد کا زیادہ خاموش اور تلخ سوال اٹھاتا ہے: جب آپ کو محبت مل جائے، پھر بھی دل کیوں مطمئن نہیں ہوتا؟
روڈریگو کے مداحوں کے لیے یہ موضوع نیا نہیں، مگر اس بار لہجہ زیادہ پختہ لگتا ہے۔ اپنے پہلے البم میں انہوں نے ٹوٹے دل کی شدت کو آواز دی، دوسرے البم میں غصہ، شرمندگی اور جوانی کی بے چینی کو کھل کر بیان کیا۔ اب اس نئے گانے میں وہ الزام تراشی سے آگے بڑھ کر اپنے اندر جھانکتی نظر آتی ہیں۔ یہ گانا کسی سابق محبوب کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کرتا؛ یہ خود سے پوچھتا ہے کہ اگر محبت واقعی موجود ہے، تو پھر درد باقی کیوں ہے؟
یہی وجہ ہے کہ یہ گانا صرف ایک رومانوی نغمہ نہیں لگتا۔ یہ ایک اعتراف ہے۔ محبت ہاتھ تھام سکتی ہے، رات کو کم تنہا بنا سکتی ہے، زندگی میں نرمی لا سکتی ہے۔ مگر روڈریگو کے مطابق، ہر خلا کسی دوسرے انسان سے نہیں بھرتا۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج اندر سے شروع ہوتا ہے۔
