اسلام آباد: مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کو معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے، ترقیاتی منصوبوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایک بار پھر دیرپا معاشی استحکام کے لیے ضروری بنیادی اصلاحات (Structural Reforms) کو نظر انداز کیا ہے۔
بجٹ میں ترقیاتی اخراجات، سماجی بہبود کے منصوبوں، صنعتی شعبے کی معاونت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان پالیسیوں سے معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بجٹ میں ٹیکس نظام، سرکاری اداروں کی نجکاری و اصلاح، توانائی کے شعبے، پنشن کے بڑھتے بوجھ اور حکومتی نظم و نسق جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اصلاحات شامل نہیں کی گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو محدود ٹیکس نیٹ، توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے، کمزور ٹیکس وصولی اور غیر مؤثر سرکاری اخراجات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے مستقل حل کے بغیر صرف ترقیاتی اخراجات بڑھانے سے پائیدار معاشی ترقی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
ان کے مطابق ملک کو مالیاتی خسارے میں کمی، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور مضبوط معیشت کے لیے ایسی اصلاحات درکار ہیں جو حکومتی کارکردگی، شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنائیں۔
مالی سال 27-2026 کے بجٹ نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا پاکستان کو قلیل مدتی معاشی نمو پر توجہ دینی چاہیے یا طویل المدتی استحکام کے لیے بنیادی معاشی اصلاحات کو ترجیح دینی چاہیے۔
