یورپ بھر میں شدید اور جان لیوا گرمی کی لہر کے باعث ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں فرانس میں بڑے عوامی اجتماعات منسوخ کر دیے گئے ہیں جبکہ جرمنی اور برطانیہ میں مواصلاتی نظام اور سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق 20 جون سے شروع ہونے والی یہ لہر یورپی تاریخ کی بدترین لہر ہے جہاں عالمی درجہ حرارت میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے، جبکہ اٹلی میں ہفتے کے آخر تک گرمی کی شدت میں مزید اضافے اور درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ برطانیہ میں بھی مسلسل تین دن سے گرمی کا نیا ریکارڈ بن رہا ہے جہاں درجہ حرارت 36.9 ڈگری تک پہنچنے پر جنوبی اور مشرقی علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
اس شدید موسمی صورتحال نے عوامی زندگی اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جرمنی میں گرمی کی وجہ سے ایک شاہراہ کی سطح پگھل کر ٹوٹ گئی ہے جبکہ آسٹریا میں ریل کی پٹریوں کے مڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ برطانیہ اور نیدرلینڈز میں سینکڑوں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں اور لندن میں ہنگامی امداد کے لیے آنے والی فون کالز میں 50 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ وسطی انگلینڈ میں ایک نوجوان جھیل میں نہاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ طبی ماہرین کے مطابق اسپتالوں کے وارڈز شدید گرم ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے کینسر کے علاج کی مشینیں اور ایم آر آئی اسکینرز جیسے اہم طبی آلات کام کرنا چھوڑ رہے ہیں۔ پیرس میں ہنگامی طبی خدمات کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ محض 24 گھنٹوں کے دوران گرمی کی وجہ سے 55 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جو کہ معمول کے مقابلے میں انتہائی تشویشناک حد تک زیادہ ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گرمی کی یہ لہر ایک خاص فضائی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے جس نے گرم ہوا کے ایک بڑے گولے کو مغربی یورپ کے اوپر روک رکھا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے بغیر ایسی شدید گرمی کا ہونا ناممکن تھا۔ شمالی یورپ میں مکانات عام طور پر سرد موسم کے لحاظ سے گرمی کو اندر روکنے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور بین الاقوامی توانائی ادارے کے مطابق پورے یورپ میں صرف 20 فیصد گھروں میں اے سی کی سہولت موجود ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی ادارہ برائے موسمیات کا کہنا ہے کہ جون کے آخر تک یہ لہر یورپ کے وسطی حصوں اور بلقان کی ریاستوں کی طرف منتقل ہونا شروع ہو جائے گی۔
