باکو نے اسرائیل کی جانب سے 1915 میں ہونے والے آرمینیائی قتلِ عام کو ‘نسل کشی’ تسلیم کرنے کے فیصلے پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ یہ سفارتی کشیدگی ان دو ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری اسٹریٹجک اور عسکری تعلقات میں ایک غیر معمولی دراڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے آج اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اس فیصلے پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا۔ باکو کے نزدیک یہ اقدام محض تاریخی موقف کا اختلاف نہیں، بلکہ یہ آذربائیجان کی علاقائی سالمیت اور نگورنو کاراباخ تنازع سے جڑے تاریخی بیانیے پر براہِ راست حملہ ہے۔
اسرائیل برسوں سے ایک نازک سفارتی توازن برقرار رکھے ہوئے تھا۔ تل ابیب طویل عرصے سے باکو کو ہتھیار فراہم کرنے والا اہم ترین ملک رہا ہے، خاص طور پر جدید ڈرون اور نگرانی کا وہ نظام جس نے آرمینیا کے خلاف آذربائیجان کی فوجی کامیابیوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دوسری جانب، اسرائیل پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور تعلیمی حلقوں کا مسلسل دباؤ تھا کہ وہ عثمانی دور میں ہونے والے آرمینیائی قتلِ عام کو باقاعدہ تسلیم کرے۔
‘نسل کشی’ کو تسلیم کر کے اسرائیل نے ایران کی سرحد پر واقع اپنے اہم ترین اتحادی کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لیا ہے۔ آذربائیجان، جو کہ ایک سیکولر اور شیعہ اکثریتی ملک ہے، اسرائیل کے لیے تہران کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا ایک اہم انٹیلیجنس مرکز ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ اپنے اندرونی ناقدین کو مطمئن کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے، جس میں باکو کے ساتھ دفاعی معاہدوں کو نقصان پہنچائے بغیر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی گئی ہے۔
ادھر آرمینیائی حکومت نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ایک اخلاقی کامیابی قرار دیا ہے۔ تاہم، یہ قدم آرمینیا کے لیے بھی پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتا ہے؛ کیونکہ وہ اس وقت آذربائیجان کے ساتھ امن عمل کے نازک دور سے گزر رہا ہے، اور بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے بیانات باکو کے موقف کو مزید سخت کر سکتے ہیں۔
سفارتی کیبلز اور بیانات کی پرتوں کے پیچھے حقیقت تلخ ہے۔ آذربائیجان کی فوجی برتری، جو بڑی حد تک اسرائیلی ہتھیاروں پر مبنی ہے، خطے میں استحکام کا بنیادی عنصر ہے۔ اگر یہ شراکت داری کمزور پڑتی ہے، تو جنوبی قفقاز کا سیکیورٹی توازن تیزی سے بدل سکتا ہے۔
باکو نے واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ کے اقدامات کا تعین اسرائیل کی پالیسی میں تسلسل کو دیکھ کر کرے گا۔ فی الحال، اسٹریٹجک اتحاد بظاہر قائم ہے، لیکن وہ اعتماد جس نے اس تعلق کو برسوں تک زندہ رکھا، بکھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
