پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے، لیکن ایچ آئی وی کے ساتھ جینے والے ہزاروں افراد کے لیے یہ موسم محض موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک سنگین خطرہ ہے۔ سیلابی ریلے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار راستے ان کی زندگی بچانے والی اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی تک رسائی کو منقطع کر سکتے ہیں۔
گزشتہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں نے سندھ اور پنجاب میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اس وقت کئی کلینک ملبے کا ڈھیر بن گئے اور مریض مہینوں تک ادویات سے محروم رہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی نے طبی ماہرین اور مریضوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ایک صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم ابھی تک گزشتہ برسوں کے نقصانات سے نہیں نکل پائے۔ اگر کوئی مرکزی سڑک سیلاب کی نذر ہو جائے تو یہ صرف لاجسٹک کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ مریض کی زندگی کا سوال بن جاتا ہے۔ یہ ایک خاموش طبی بحران کی تیاری ہے۔”
ایچ آئی وی کے علاج میں تسلسل ناگزیر ہے۔ دوا میں ایک دن کا وقفہ بھی وائرس کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتا ہے، جس سے علاج انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ سندھ کے دور دراز اضلاع میں، جہاں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے، سپلائی چین پہلے ہی انتہائی کمزور ہے۔ سڑکوں کی بندش کا مطلب ہے کلینکوں میں ادویات کا ختم ہونا۔
صحت کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنان اب ایک غیر مرکزی تقسیم کے نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی مراکز پر انحصار کرنے کے بجائے، مون سون سے قبل ہی ہائی رسک علاقوں میں تین ماہ کا اسٹاک پہنچا دیا جانا چاہیے۔
حکومت نے ضلعی سطح پر ہنگامی اسٹاک کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم فرنٹ لائن ورکرز کو اس پر تحفظات ہیں۔ فنڈز کی تاخیر اور بیوروکریسی کی پیچیدگیاں اکثر ہنگامی ادویات کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
لاڑکانہ کے نواحی گاؤں میں رہنے والے ایک مریض کے لیے حساب کتاب سادہ ہے۔ اگر بس سروس معطل ہوئی اور کلینک بند ہوا، تو گولیاں ختم ہو جائیں گی۔
مون سون قریب ہے۔ ملک کے سب سے کمزور طبقے کے لیے سوال یہ نہیں کہ بارش کتنی ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ کیا نظام اس قابل ہے کہ وہ انہیں زندہ رہنے کے لیے ضروری سہارا دے سکے۔
