ناسا نے اپنی طویل عرصے سے فعال ‘چندرا ایکس رے آبزرویٹری’ کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ خلائی دوربین کے پرزہ جات میں خرابی کے باعث اس کا مدار سے ہٹ جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے بعد مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر کے انجینئرز دوربین کے فرسودہ سسٹمز کو ٹھیک کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
1999 میں اسپیس شٹل کولمبیا کے ذریعے خلا میں بھیجی گئی یہ دوربین اپنی پانچ سالہ متوقع مدت سے کہیں زیادہ عرصے تک کام کر چکی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس نے بلیک ہولز، سپرنووا اور ڈارک میٹر کے جو مشاہدات کیے، وہ فلکیاتی سائنس میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب یہ مشن ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر دن تکنیکی بقا کی جنگ ہے۔
موجودہ بحران کا تعلق دوربین کے ‘ایٹیٹیوڈ کنٹرول سسٹم’ سے ہے۔ ستاروں کو ٹریک کرنے والے سینسرز میں شدید تھرمل تھکاوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ اگر یہ دوربین گائیڈ ستاروں پر اپنا فوکس کھو بیٹھتی ہے، تو یہ خودکار طور پر ‘سیف موڈ’ میں چلی جائے گی، جس کے بعد یہ خلا میں بے سمت تیرنے لگے گی۔
اس بحالی مشن سے وابستہ ایک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ایک ایسی مشین کو سنبھال رہے ہیں جو 20ویں صدی میں بنی تھی۔ آج ہم جو بھی تبدیلی کرتے ہیں، اس کے لیے ہمیں ان پرزوں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے جو 2024 میں فعال رہنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیے گئے تھے۔”
ناسا کی حکمت عملی میں فیل ہونے والے ہارڈویئر سینسرز کو بائی پاس کرنے کے لیے ریموٹ سافٹ ویئر پیچز اپ لوڈ کرنا شامل ہے۔ یہ عمل انتہائی حساس ہے؛ کوڈنگ میں ایک چھوٹی سی غلطی بھی اربوں ڈالر کی اس دوربین کو ہمیشہ کے لیے غیر فعال کر سکتی ہے۔ زمینی کنٹرول ٹیمیں فی الحال زمین پر موجود دوربین کے ماڈل پر ان اصلاحات کا تجربہ کر رہی ہیں تاکہ خلا میں موجود اس آلے کو کسی بڑے خطرے سے بچایا جا سکے۔
چندرا کی بقا صرف ایک پرانی مشین کو چلتے رکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ سائنسی ڈیٹا کے تسلسل کا معاملہ ہے۔ یہ واحد ہائی ریزولوشن ایکس رے دوربین ہے جو کائناتی دھول کے بادلوں کے پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے بند ہونے سے عالمی فلکیاتی برادری کے پاس بلند توانائی کے مظاہر کو دیکھنے کے لیے کوئی فوری متبادل موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ناسا نے اس مشن کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی، لیکن ہارڈویئر کی موجودہ صورتحال بتا رہی ہے کہ سائنسی نتائج حاصل کرنے کا وقت تیزی سے سکڑ رہا ہے۔ فی الحال پوری توجہ ریمنڈ کمانڈز کے اگلے سلسلے پر ہے، جو زمین سے کی جانے والی ایک نازک ڈیجیٹل سرجری کی مانند ہے، جس کا مقصد جدید خلائی تحقیق کے اس اہم ستون کو گرنے سے بچانا ہے۔
