ارجنٹائن نے منگل کے روز کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں مصر کو 1-2 سے شکست دے دی۔ میچ کے آخری لمحات میں دو گول کر کے ارجنٹائن نے شکست کے دہانے سے واپسی کی، جس سے ان کی ٹورنامنٹ میں پیش قدمی کی امیدیں برقرار ہیں، جبکہ مصری ٹیم کی دفاعی حکمت عملی ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔
میچ کا پہلا گول 34ویں منٹ میں مصر کے حصے میں آیا۔ ارجنٹائن کے مڈ فیلڈ میں غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محمد صلاح نے مصطفیٰ محمد کو ایک شاندار پاس دیا، جنہوں نے گیند کو جال میں پہنچا کر اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ اس گول کے بعد اسٹیڈیم میں ارجنٹائن کے حامیوں میں خاموشی چھا گئی اور لیونل اسکالونی کی ٹیم کو اگلے ایک گھنٹے تک خسارے کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑی۔
80 منٹ تک مصری دفاع آہنی دیوار بنا رہا۔ گول کیپر محمد الشناوی نے ارجنٹائن کے حملوں کو ناکام بنایا، خاص طور پر لاوٹارو مارٹینیز کے ایک زبردست شاٹ کو روک کر انہوں نے مصر کی برتری کو برقرار رکھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ مصر ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اپ سیٹ کرنے جا رہا ہے۔
تاہم، 84ویں منٹ میں میچ کا پانسہ پلٹ گیا۔ جولین الواریز کے میدان میں آنے سے ارجنٹائن کے حملوں میں تیزی آئی۔ کچھ ہی دیر بعد، اینزو فرنینڈس کو پینلٹی ایریا کے باہر گرایا گیا، جس پر لیونل میسی نے اپنی روایتی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فری کک پر گیند کو جال میں پہنچا کر اسکور برابر کر دیا۔
مصر کے کھلاڑیوں کا حوصلہ ٹوٹ چکا تھا۔ انجری ٹائم کے چوتھے منٹ میں ارجنٹائن نے دباؤ برقرار رکھا اور الیکسس میک ایلسٹر نے گیند لاوٹارو مارٹینیز کی طرف بڑھائی، جنہوں نے فاتح گول اسکور کر کے ٹیم کو ناقابل یقین فتح سے ہمکنار کیا۔
میچ کے بعد لیونل میسی نے کہا، "ہم جانتے تھے کہ یہ مقابلہ مشکل ہوگا۔ مصر نے اپنی پوری طاقت سے دفاع کیا، لیکن ہم صبر کے ساتھ کھیلے۔ ٹورنامنٹ کا تقاضا یہی ہے کہ آخری سیٹی تک ہار نہ مانی جائے۔”
دوسری جانب مصری کوچ روئی ویتوریا کی ٹیم کی اس آخری لمحات کی ناکامی پر مایوسی واضح تھی۔ ان کی ٹیم نے پورے میچ میں انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، مگر اختتامی لمحات میں دباؤ برداشت نہ کر سکی۔
اس فتح کے بعد ارجنٹائن گروپ میں مضبوط پوزیشن پر آ گیا ہے، جبکہ مصر کے لیے اب اگلے میچ میں جیتنا لازمی ہو گیا ہے۔ یہ مقابلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فٹ بال کے میدان میں آخری سیٹی بجنے تک کوئی بھی برتری محفوظ نہیں ہوتی۔
