کراچی یونیورسٹی میں منگل کے روز دو طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپ میں سات طلبا زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد کیمپس میں کشیدگی پھیل گئی اور انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔
لڑائی کا آغاز آرٹس اینڈ سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے قریب دوپہر کے اوقات میں ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق، معمولی تلخ کلامی نے دیکھتے ہی دیکھتے سنگین صورتحال اختیار کر لی، جس کے بعد دونوں گروپوں کے کارکنوں نے ایک دوسرے پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کر دیا۔
یونیورسٹی سیکیورٹی اور پولیس کے پہنچنے تک حملہ آور موقع سے فرار ہو چکے تھے۔ زخمی ہونے والے سات طلبا کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم چند طلبا کے سر پر گہری چوٹیں آئی ہیں۔
واقعے کے ایک عینی شاہد طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "جھگڑا ایک چھوٹی سی بات پر شروع ہوا، لیکن منٹوں میں مزید لوگ آ گئے اور صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔”
تصادم کے فوراً بعد جامعہ انتظامیہ نے متعلقہ شعبے میں تدریسی سرگرمیاں معطل کر دیں۔ شام تک پولیس کی بھاری نفری مرکزی گیٹ اور کیمپس کی اہم شاہراہوں پر گشت کرتی رہی، جس نے تعلیمی ادارے کی معمول کی فضا کو ایک خوفناک منظر میں بدل دیا۔
جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیموں کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر اس تازہ واقعے نے سیکیورٹی انتظامات پر دوبارہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ملوث افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
کیمپس میں تاحال ہائی الرٹ ہے اور مرکزی گیٹ سے داخل ہونے والے ہر شخص کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ تعلیمی عمل کی بحالی کا انحصار اب انتظامیہ کے اگلے اقدامات پر ہے، جو طویل عرصے سے اس تعلیمی کلچر کو پرتشدد جھڑپوں سے پاک کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
