ٹرمپ انتظامیہ نے ‘اینڈینجرڈ اسپیشیز ایکٹ’ میں بڑی تبدیلیاں لاتے ہوئے جنگلی حیات اور ان کے مسکن کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے اختیارات کو محدود کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی پالیسی تحفظِ ماحول کے بجائے صنعتی توسیع اور ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دیتی ہے۔
اس تبدیلی کے تحت اب ان انواع کو، جنہیں ‘خطرناک حد تک کم’ قرار دیا گیا ہے، خودکار تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ ماضی میں، خطرے سے دوچار انواع کو فوری اور یکساں تحفظ ملتا تھا، لیکن اب امریکی فش اینڈ وائلڈ لائف سروس ہر نوع کے لیے الگ سے فیصلہ کرے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار ایک ایسا قانونی خلا پیدا کرے گا جس سے ترقیاتی کاموں کے دوران نایاب جانوروں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
نئے قواعد کے تحت اب لسٹنگ کے عمل میں اقتصادی اثرات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پہلی بار ریگولیٹرز کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی نوع کے تحفظ سے ہونے والے ممکنہ معاشی نقصان کی رپورٹ بھی جاری کریں۔ اگرچہ حکومتی حکام کا دعویٰ ہے کہ معاشی اعداد و شمار فیصلہ سازی پر اثر انداز نہیں ہوں گے، تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ شق لابی کرنے والے گروہوں کو تحفظِ ماحول کے اقدامات رکوانے کا قانونی جواز فراہم کرے گی۔
سیکریٹری داخلہ ڈیوڈ برن ہارٹ نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے "جدت” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں کاروباری اداروں پر غیر ضروری ضوابط کا بوجھ کم کریں گی اور ایجنسی کو اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد دیں گی۔
دوسری جانب، تحفظِ ماحول کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اسے 46 سال پرانے قانون کو تباہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ‘سینٹر فار بائیولوجیکل ڈائیورسٹی’ اور ‘ارتھ جسٹس’ جیسی تنظیموں نے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ تبدیلیاں ماحولیاتی حقائق کو نظر انداز کر کے قلیل مدتی صنعتی مفادات کو تحفظ دیتی ہیں۔
یہ پالیسی ایسے وقت میں تبدیل کی گئی ہے جب انتظامیہ عوامی زمینوں پر تیل، گیس اور معدنیات نکالنے کے منصوبوں کو فروغ دے رہی ہے۔ "اہم مسکن” کی تعریف کو بدل کر انتظامیہ نے ان ڈویلپرز کے لیے قانونی رکاوٹیں ہٹا دی ہیں جو ان علاقوں میں کام کرنے کے خواہشمند ہیں جہاں نایاب انواع پائی جاتی ہیں۔
ماہرینِ حیاتیات کے نزدیک یہ قانون اب تحفظ کے بجائے ترقیاتی منصوبوں کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ جیسے جیسے یہ نئے قواعد نافذ ہو رہے ہیں، ماحولیاتی کارکنوں نے ایک طویل قانونی جنگ کی تیاری کر لی ہے، جبکہ سیج گراؤس اور مونارک تتلی جیسی درجنوں انواع کا مستقبل اب وفاقی عدالتوں کے فیصلوں پر منحصر ہے۔
