امریکہ نے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائی شروع کر دی ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایران کے میزائل اور ڈرون حملے میں اردن میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے پر دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتا ہو گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق فضائی حملوں میں ایران سے منسلک فوجی تنصیبات اور اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی مستقبل میں امریکی افواج اور بین الاقوامی بحری راستوں پر حملے کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایرانی حملے میں متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے، جبکہ لاپتا فوجی کی تلاش جاری ہے۔ واشنگٹن نے اس حملے کو امریکی افواج پر حالیہ عرصے کا سنگین ترین حملہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں سے بڑے پیمانے پر نقصان نہیں ہوا، تاہم اگر امریکہ نے مزید کارروائیاں کیں تو ایران بھرپور جواب دے گا۔
اس تازہ فوجی تصادم کے بعد پورے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ عالمی رہنماؤں نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی اور تیل بردار راستے بھی خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں تو اس کے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی منڈی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
