مکسر: جنوبی سولاویسی کے ساحل کے قریب لکڑی کی کشتی ڈوبنے کے بعد تین دن تک سمندر کی لہروں کے رحم و کرم پر رہنے والے پانچ مسافروں کو منگل کی صبح بحفاظت نکال لیا گیا۔
ریسکیو ٹیموں نے ان افراد کو سیار جزائر سے تقریباً 20 ناٹیکل میل دور ملبے اور عارضی لکڑی کے تختوں کے سہارے تیرتے ہوئے پایا۔ یہ پانچوں افراد ان 15 مسافروں میں شامل تھے جو گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز کشتی ‘کالیہ اندہ’ کے سمندری طوفان اور انجن فیل ہونے کے باعث ڈوبنے سے لاپتہ ہو گئے تھے۔
باقی 10 مسافروں کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
مقامی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد ارشد نے بتایا کہ جب گشتی کشتی ان تک پہنچی تو وہ شدید پانی کی کمی، دھوپ سے جھلسے ہوئے اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے۔ ان کے مطابق کشتی میں طوفان کے دوران تیزی سے پانی بھرنا شروع ہوا، جس سے افراتفری پھیلی اور کشتی کا ڈھانچہ ٹوٹتے ہی مسافر بکھر گئے۔
ریسکیو کیے گئے تین مرد اور دو خواتین کو مکسر کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہیں لیکن شدید صدمے اور جسمانی کمزوری کا شکار ہیں۔
یہ واقعہ انڈونیشیا کے جزائر میں سمندری سفر کے غیر محفوظ پہلوؤں کو ایک بار پھر سامنے لایا ہے۔ دور دراز علاقوں میں سفر کے لیے استعمال ہونے والی یہ چھوٹی لکڑی کی کشتیاں اکثر حفاظتی آلات سے محروم ہوتی ہیں۔ لائف جیکٹس کی کمی اور مسافروں کی فہرست نہ ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کو یہ معلوم کرنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے کہ حادثے کے وقت کشتی میں اصل میں کتنے لوگ سوار تھے۔
‘کالیہ اندہ’ دو چھوٹے جزائر کے درمیان سفر کر رہی تھی جب موسم اچانک بگڑ گیا۔ مقامی موسمیاتی رپورٹوں کے مطابق ہفتے کے روز ہوائیں 30 ناٹ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھیں، جن کی شدت پرانی کشتی برداشت نہ کر سکی۔
تلاش کا کام اس ہفتے بھی جاری رہے گا، تاہم حکام نے تسلیم کیا ہے کہ باقی 10 مسافروں کے زندہ ملنے کے امکانات وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ تلاش کا دائرہ کار 50 میل کے علاقے تک پھیلا دیا گیا ہے، جہاں مقامی ماہی گیر بھی بحریہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
مکسر کی بندرگاہ پر انتظار کرنے والے پانچ خاندانوں کے لیے یہ بازیابی ایک امید کی کرن ہے، لیکن باقی دس لاپتہ افراد کے لواحقین کے لیے انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی جا رہی ہیں۔
