ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی نے بالآخر 2014 کے ورلڈ کپ فائنل میں جرمنی کے ہاتھوں ہونے والی شکست پر خاموشی توڑ دی ہے۔ میسی کا ماننا ہے کہ ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی وہ 0-1 کی شکست ایک ایسا زخم ہے جو وقت گزرنے کے باوجود مندمل نہیں ہوا۔
ماریو گوٹزے کا اضافی وقت میں کیا گیا وہ گول میسی کے کیریئر کا سب سے تکلیف دہ لمحہ ثابت ہوا۔ اس شکست نے میسی سے وہ واحد ٹرافی چھین لی تھی جس کا انہیں برسوں سے انتظار تھا۔
میسی نے ایک حالیہ انٹرویو میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا، "وہ دن آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ ہمارے پاس مواقع تھے، ہم کھیل پر حاوی تھے، لیکن آخری لمحات میں ہار جانا صرف ایک شکست نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا داغ تھا جو کبھی نہیں مٹے گا۔”
اگرچہ 2022 میں قطر میں ورلڈ کپ جیت کر میسی نے اپنی اس محرومی کا ازالہ کر لیا، لیکن 2014 کا فائنل ان کے لیے ایک الگ نوعیت کی تاریخ رکھتا ہے۔ انہوں نے میچ کے بعد ڈریسنگ روم میں چھائی ہوئی اس خاموشی اور گھٹن کا ذکر کیا، جہاں پوری ٹیم کو احساس تھا کہ انہوں نے ماراکانا اسٹیڈیم میں اپنی میراث سنہری کرنے کا ایک سنہری موقع گنوا دیا ہے۔
اس ٹورنامنٹ کے دوران میسی کی خاموشی کو ناقدین نے اکثر قیادت کی کمی قرار دیا تھا۔ تاہم، میسی نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ایک پوری قوم کی امیدوں کا بوجھ کتنا بھاری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، ہر بار جب وہ گیند کو چھوتے تھے، ایسا لگتا تھا جیسے ان کے پورے کیریئر کا فیصلہ ہو رہا ہو۔
میسی کا کہنا تھا، "لوگ حکمت عملیوں یا تبدیلیوں پر بحث کرتے ہیں، لیکن اندرونی طور پر وہ صرف شدید تھکاوٹ تھی۔ ہم نے میدان میں اپنی روح نچھاور کر دی تھی۔ جب آپ سب کچھ داؤ پر لگا کر بھی خالی ہاتھ لوٹیں، تو کوئی دوسری کامیابی اس پہلی تکلیف کو کم نہیں کر سکتی۔”
یہ انکشاف ایلیٹ اسپورٹس کے نفسیاتی دباؤ کی ایک نایاب جھلک پیش کرتا ہے۔ آٹھ بیلن ڈی اور اور لاتعداد کلب ٹائٹلز جیتنے کے باوجود، 2014 کی وہ شکست میسی کی زندگی کا ایک ایسا باب ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر پائے۔
بہت سے شائقین کے لیے 2022 میں دوحہ کی فتح ایک مکمل ریڈیمپشن تھی، لیکن میسی کے لیے یہ دونوں لمحات الگ الگ خانوں میں بند ہیں۔ ایک ان کے کیریئر کا عروج ہے، جبکہ دوسرا وہ سبق ہے جس نے انہیں عالمی دباؤ کو سہنا سکھایا۔
میسی اب اس شکست سے چھٹکارا پانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ 2014 کا فائنل ان کی کہانی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے—ایک تلخ، غیر حل شدہ باب جس نے انہیں وہ کھلاڑی بنایا جو وہ آج ہیں۔
