کراچی — صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ صوبے میں سی سیکشن (بڑے آپریشن) کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے زچگی کے دوران ماؤں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) میں منعقدہ چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ، جس کا عنوان "ماں رہے سلامت” تھا، سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس تشویشناک صورتحال پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ سی سیکشن کی بڑھتی ہوئی تعداد سندھ میں ماؤں کی اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے، اور انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر کسی خاتون کا تین بار بڑا آپریشن ہو چکا ہو تو اس کے بعد خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات کو لازمی غور میں لایا جانا چاہیے۔
صوبائی وزیر صحت نے واضح کیا کہ سندھ صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات میں ملک بھر میں سب سے آگے ہے اور صوبائی حکومت خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حاملہ خواتین کی بروقت اور محفوظ زچگی کے لیے صوبے بھر میں خصوصی "برتھ اسٹیشن سینٹرز” قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں کی خواتین کو بھی یہ سہولیات میسر آ سکیں۔ اس کے علاوہ، حکومتِ سندھ خواتین کے لیے سفری و ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو بھی بہتر بنا رہی ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے طبی مراکز تک پہنچ سکیں اور زچگی کے دوران ماؤں کی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
