دی ہیگ — انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) نے اپنے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو جنسی بدسلوکی کے الزامات ثابت ہونے کے بعد عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ عدالت کی انتظامی باڈی، ’اسمبلی آف اسٹیٹس پارٹیز‘ نے منگل کی رات اس فیصلے کی تصدیق کی، جس میں کہا گیا کہ ان کا طرزِ عمل ادارے کے وقار کے منافی تھا اور اب وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کریم خان عالمی سطح پر انتہائی حساس مقدمات کی پیروی کر رہے تھے۔ ان میں اسرائیلی اور حماس قیادت کے خلاف وارنٹ گرفتاری کا معاملہ بھی شامل تھا۔ تاہم، عدالت کے اندرونی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نے ان کے کیریئر کا اچانک خاتمہ کر دیا۔
تحقیقات کا دائرہ کار اس سال کے اوائل میں عملے کی ایک رکن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے گرد گھومتا رہا۔ کریم خان نے ابتدائی طور پر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے غزہ تنازعہ میں ان کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش قرار دیا تھا۔ تاہم، آزادانہ پینل کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں الزامات کو درست پایا گیا۔ رپورٹ کو فی الحال خفیہ رکھا گیا ہے، لیکن اس میں ان کے رویے کو ادارے کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا بحران ہے۔ عدالت پہلے ہی رکن ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم اور اپنے جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کے حوالے سے تنقید کی زد میں ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عدالت کو اپنی ساکھ بچانے کی ضرورت تھی، چیف پراسیکیوٹر کی برطرفی نے انتظامی سطح پر موجود گہرے شگافوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
دی ہیگ میں مقیم ایک سینئر قانونی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "عدالت کا مینڈیٹ اس کے سربراہان کے اخلاقی اختیار پر منحصر ہوتا ہے۔ جب پراسیکیوٹر خود بدسلوکی کے اسکینڈل کا مرکز بن جائے، تو دوسروں سے انصاف کے تقاضے کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔”
کریم خان کی رخصتی کے بعد آئی سی سی ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ فی الحال ڈپٹی پراسیکیوٹرز روزمرہ کے امور سنبھال رہے ہیں، لیکن مستقل جانشین کی تلاش کے عمل میں رکن ممالک کے مابین شدید سیاسی کھینچا تانی متوقع ہے۔
عدالت نے شکایت کنندہ کی رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل تحقیقاتی رپورٹ جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔ آئی سی سی کی قیادت اب عالمی رہنماؤں کے احتساب سے زیادہ اپنی اپنی ساکھ کو سنبھالنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔
