اسلام آباد — پاکستان میں حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق مختصر مدت کی مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ روزمرہ استعمال کی اشیاء اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار ڈیٹا کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس انڈیکس میں 0.91 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی میں اس حالیہ تیزی کی بڑی وجہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا اتار چڑھاؤ ہے، جس نے ملک بھر میں مال برداری اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ یہ مسلسل 67 واں ہفتہ ہے کہ جب ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سالانہ بنیادوں پر عام صارف پر سب سے زیادہ بوجھ خوراک اور توانائی کے شعبوں سے پڑا۔ اعداد و شمار کے مطابق، سالانہ سطح پر ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 253.04 فیصد، پیاز میں 81.55 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 74.13 فیصد کا بھاری اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ مائع پٹرولیم گیس کی قیمتیں 46.87 فیصد، ڈیزل 31.92 فیصد اور بجلی کے نرخ 22.79 فیصد تک بڑھے۔ دوسری طرف، ہفتہ وار بنیادوں پر چکن، کیلے، مونگ اور ماش کی دالوں سمیت چینی کی قیمتوں میں معمولی کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 51 ضروری اشیاء پر مشتمل اس انڈیکس میں شامل 21 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
