صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 19 جولائی سے خیبر پختونخوا میں جاری شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث اب تک 32 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
مون سون کے اس سلسلے نے نہ صرف جانی نقصان پہنچایا بلکہ صوبے بھر میں انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں 22 بچے بھی شامل ہیں۔ بارشوں کے دوران گھروں کی چھتیں گرنے اور سیلابی پانی میں بہہ جانے کے واقعات میں 36 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
تباہی کا دائرہ کار وسیع ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 138 مکانات جزوی یا مکمل طور پر زمین بوس ہو چکے ہیں۔ سوات، دیر اور کوہستان جیسے اضلاع میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے، جہاں پہاڑی جغرافیہ ریسکیو ٹیموں کے لیے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے یا عارضی ٹھکانوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم صورتحال کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں۔” تاہم، متاثرین کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کی رفتار زمینی حقائق کے مقابلے میں سست ہے۔
پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم رابطہ سڑکیں بند ہیں، جس کی وجہ سے دور دراز دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ ملبہ ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہے، لیکن محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی نے حکام اور متاثرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
زمین پہلے ہی پانی سے سیراب ہو چکی ہے اور ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر امدادی سامان پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے، مگر دشوار گزار راستے امدادی کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
خیبر پختونخوا کے رہائشیوں کے لیے آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ مون سون کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، جس سے مزید نقصانات کا خدشہ بدستور موجود ہے۔
