اسلام آباد — پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کو اسلام آباد میں قائم ان کی سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کا باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ان کے اسلام آباد ہائی کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ تبادلے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کے مطابق، اسٹیٹ آفس نے گزشتہ 3 جولائی کو اس سرکاری گھر کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی تھی۔ نوٹس میں جسٹس بابر ستار کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ الاٹمنٹ کی منسوخی کے بعد 30 روز کے اندر اندر اس مکان کو خالی کر دیں۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ چونکہ ان کا تبادلہ وفاقی دارالحکومت سے صوبہ خیبر پختونخوا کی عدالتِ عالیہ میں ہو چکا ہے، اس لیے وہ اب اسلام آباد میں سرکاری رہائش گاہ رکھنے کے اہل نہیں رہے۔ یہ ایک ماہ کی مہلت انہیں متبادل انتظامات کرنے اور گھر خالی کرنے کے لیے دی گئی ہے، جس کی میعاد الاٹمنٹ منسوخ ہونے کی تاریخ یعنی 3 جولائی سے شروع ہو کر 3 اگست تک برقرار رہے گی۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ ججوں کی دیگر عدالتوں میں تعیناتی اور سرکاری رہائش گاہوں سے متعلق رائج عدالتی قوانین کے تحت کیا گیا ہے۔
