اسلام آباد ایک بار پھر تشویش کی زد میں آ گیا ہے، کیونکہ پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وفاقی دارالحکومت میں قتل کے 6 مقدمات درج کیے گئے۔ اسی عرصے میں گاڑی چوری کے 23 واقعات، چھیننے کے 5 مقدمات، 11 دیگر جرائم اور خودکشی کے 2 واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس سے شہر میں امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
شہریوں کو سب سے زیادہ ہلا دینے والا واقعہ نون پولیس اسٹیشن کے علاقے میں پیش آیا، جہاں جنگی سیداں میں ایک گھر سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی گولیاں لگی لاشیں برآمد ہوئیں۔ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے میں ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتولین میں دو مرد، ایک خاتون اور ایک کم عمر لڑکا شامل تھے۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر خاندانی یا گھریلو تنازع کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاندان کا تعلق سوات سے تھا، جبکہ پولیس واقعے کے محرکات اور پس منظر جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ بعض اطلاعات میں مرکزی مقتول کی شناخت حبیب الرحمان کے نام سے کی گئی، جو مبینہ طور پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔ تفتیشی حکام فرانزک شواہد، عینی شاہدین کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ گھر سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد تک بھی رسائی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم اب تک حکام نے قتل کی حتمی وجہ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
اصل تشویش یہ ہے کہ یہ واقعہ بظاہر کوئی اکیلا سانحہ نہیں۔ حالیہ ہفتہ وار اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں جرائم کا رجحان زیادہ مسلسل اور سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں قتل کے واقعات، گاڑیوں کی چوری اور اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی شکایات نے شہریوں کے احساسِ تحفظ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ایک ایسے شہر میں جہاں چیک پوسٹیں، گشت اور نگرانی کے انتظامات پہلے ہی روزمرہ کا حصہ ہیں، ایسے اعداد و شمار کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ ایک ہفتے میں قتل کے 6 مقدمات محض پولیس ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جو شہریوں میں خوف اور بے یقینی کو مزید گہرا کرتی ہے، خاص طور پر جب ایک ہی واقعے میں ایک پورا خاندان نشانہ بنایا گیا ہو۔
اب یہ سوال مزید شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا اسلام آباد میں موجود نمایاں سکیورٹی انتظامات واقعی سنگین جرائم کو روکنے میں مؤثر ہیں یا نہیں۔ خاندانی قتل کے اس ہولناک واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اور یہ کیس اس بات کا اہم امتحان بن سکتا ہے کہ حکام وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے پرتشدد جرائم سے نمٹنے کے لیے کس حد تک سنجیدہ اور مؤثر اقدام کرتے ہیں۔
